بین الاقوامی

امریکہ نے چینی صدر کی اعلیٰ ترین سطح کی میزبانی کی، چینی وزیر خارجہ

بیجنگ :چینی صدر شی جن پھنگ نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا۔ اس حوالے سے ہفتہ کے روز چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ہمراہ آنے والے صحافیوں کو دورے کے بارے میں بریفنگ دی۔ وانگ ای نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کا گیارہ سالوں میں امریکہ کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے ، جس سے دونوں سربراہان مملکت نے چھ ماہ کے اندر ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ مکمل کرکے چین امریکہ تعلقات میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔ امریکہ نے صدر شی جن پھنگ کی اعلیٰ ترین سطح کی میزبانی کی ۔ صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ نے خود ایئربیس پر صدر شی اور ان کی اہلیہ کا استقبال کیا۔ وانگ ای کا کہنا تھا کہ اس دورے کا ایک اہم سیاسی نتیجہ یہ نکلا کہ صدر شی جن پھنگ اور صدرڈونلڈ ٹرمپ نے چین۔امریکہ تعلقات کی نئی پوزیشننگ کے مفہوم کو مزید وسعت دی، احترام، انصاف اور برابری کی اہمیت کو واضح کیا، اور احترام، انصاف اور برابری کی بنیاد پر "تعمیری اسٹریٹجک استحکام پر مبنی چین۔امریکہ تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ وانگ ای نے کہا کہ دونوں سربراہان مملکت نے سیاسی اور سفارتی ذرائع کے مربوط کردار کو بھرپور بروئے کارلانے پر اتفاق کیا۔ دونوں افواج کو باقاعدہ بات چیت جاری رکھنی چاہیے، اور تجارت، مالیات، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ثقافت سے متعلق مختلف محکموں کو مواصلات کو مضبوط بنانے اور باہمی اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر شی جن پھنگ نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے مسئلے کو محتاط انداز میں سنبھالے،اور چین امریکہ اسٹریٹجک تعاون اور دوطرفہ تعلقات کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے۔ دورے کے آغاز سے قبل، دونوں ممالک کی اقتصادی و تجارتی ٹیموں نے مشاورت کا ایک نیا دورمنعقد کیا اور نئے مشترکہ انتظامات تک پہنچے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مستحکم کیا۔ دونوں سربراہان مملکت نے اپنے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بین الاقوامی جرائم کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔ وانگ ای نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان افرادی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے صدر شی جن پھنگ نے اعلان کیا کہ چین اگلے پانچ سالوں میں ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تبادلوں اور تعلیم کے لیے چین مدعو کرے گا۔ دو پانڈے پھینگ” اور "فو شوانگ” جلد ہی کرایے پر اٹلانٹا کے چڑیا گھر منتقل کر دیے جائیں گے۔ وانگ ای نے کہا کہ دورے کے دوران دونوں سربراہان مملکت نے مشترکہ دلچسپی کے اہم بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا اور عالمی امن و ترقی کے لیے مناسب کردار ادا کرنے کے لیے ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ صدر شی جن پھنگ اور صدرڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت پربھی گہرائی سے بات چیت کی۔ دونوں سربراہان مملکت نے چین-امریکہ مصنوعی ذہانت کے ڈائیلاگ میکانزم کا احسن طریقے سے استعمال کرنے پر اتفاق کیا تاکہ مصنوعی ذہانت کے خطرات اور فوائد پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اور مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ وانگ ای نے آخر میں کہا کہ اس تاریخی دورے نے چین اور امریکہ کے درمیان تعمیری اسٹریٹجک استحکام پر مبنی تعلقات کے موضوعات کو تقویت دی ہے، چین امریکہ تعلقات کے مجموعی استحکام کو محفوظ بنایا ہے اوراس کے عالمی امن و ترقی کے نصب العین پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker