پاکستان

چیئرمین واپڈا نے پن بجلی کے مزید منصوبوں کااعلان کردیا

 

اسلام آباد(آئی پی ایس)چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی (ریٹائرڈ) نے کہا ہے کہ واپڈا کے زیرتعمیر منصوبوں کی شیڈول کے مطابق تکمیل میری پہلی ترجیح ہے۔ علاوہ ازیں پانی اور پن بجلی کے شعبوں میں مزید منصوبوں کا بھی آغاز کیا جائے گا،تاکہ پاکستان میں پانی اور پن بجلی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔

 

ان خیالات کااظہار انہوں نے مہمند ڈیم، دیامربھاشا ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سمیت واپڈا کے زیرتعمیر منصوبوں کے بارے میں تقریباً ایک ہفتہ سے جاری بریفنگ سیشن کے دوران کیا۔ ممبر فنانس، ممبرواٹر، ممبر پاور، چیف ایگزیکٹو آفیسر دیامر بھاشا ڈیم، متعلقہ منصوبوں کے جنرل منیجرز اور کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے نمائندے بھی ان بریفنگز میں شریک ہوئے۔زیرتعمیر منصوبوں کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین نے کہا کہ واپڈا کے 10 زیرتعمیر منصوبے ملک میں اقتصادی استحکام اور معاشرتی ترقی کیلئے بہت ضروری ہیں،

 

کیونکہ ان منصوبوں کی بدولت ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت میں ایک کروڑ 17لاکھ ایکڑ فٹ جبکہ کم لاگت اور ماحول دوست پن بجلی کی پیداواری صلاحیت میں بھی 11ہزار 300میگا واٹ اضافہ ہوگا۔چیئرمین واپڈا نے کہا کہ شیڈول کے مطابق یہ 10منصوبے 2022 سے 2029کے دوران مرحلہ وار مکمل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی شیڈول کے مطابق تکمیل ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم یہ چیلنجز اپنے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع بھی لاتے ہیں اور ہم درپیش چیلنج کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر واپڈا کی ساکھ بڑھانے کے لئے بروئے کار لاسکتے ہیں۔

 

چیئرمین واپڈا نے کہا کہ واپڈا کے زیرتعمیر منصوبوں کی شیدول کے مطابق تکمیل کا ہدف ایک مربوط ٹیم ورک کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے اور اس کے لئے منصوبوں سے وابستہ ہر فرد کو اپنا کردار محنت اور تن دہی سے ادا کرنا ہوگا۔ایک ہفتے پر مشتمل سیشن کے دوران چیئرمین واپڈا کو مہمند ڈیم، دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سمیت دیگر زیرتعمیر منصوبوں پر علیحدہ علیحدہ بریفنگز دی گئیں اور انہیں ان منصوبوں کے اہداف اور تعمیراتی پیش رفت کے بارے میں بتایا گیا۔ چیئرمین واپڈا نے منصوبوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی تعمیر کی راہ میں آنے والی مشکلات اور رکاوٹوں کو مؤثر پیش بندی کے ذریعے دور کیا جائے۔بریفنگ کے دوران منصوبوں کیلئے اراضی کی خریداری، مقامی لوگوں کے لئے اعتماد سازی کے اقدامات، نقل وحمل اور سکیورٹی سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker