
بیجنگ :بین الاقوامی شخصیات نے کہا ہے کہ برکس تعاون کا طریقہ کار عالمی اثر و رسوخ کے حامل ایک اہم کثیر الجہتی تعاون کا پلیٹ فارم بن چکا ہے اور چین نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ چین گلوبل ساؤتھ کے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور عالمی امن و ترقی کو فروغ دینے کے لیے "گریٹر برکس تعاون” کی قیادت کرتا رہے گا۔بھارت کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سینٹر فار چائنیز اینڈ ساؤتھ ایسٹ ایشین سٹڈیز کے ڈائریکٹر بی آر دیپک نے کہا ہے کہ چین برکس تعاون کے طریقہ کار میں ایک شاندار کردار ادا کرتا ہے۔برازیل کی ساؤ پالو اسٹیٹ یونیورسٹی میں سیاسی معیشت کے پروفیسر مارکوس کورڈیرو پیرس نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ "گریٹربرکس تعاون کے اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کی تجاویز اور چار گلوبل انیشی ایٹوز موجودہ ہنگامہ خیز بین الاقوامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امید پیدا کرتے ہیں۔ عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل مرو موسیٰ نے امید ظاہر کی کہ مزید عرب ممالک برکس تعاون کے طریقہ کار میں شامل ہوں گے۔ جنوبی افریقہ میں برکس پلس فرینڈز ایسوسی ایشن کے بانی بریڈلی بورڈیس نے کہا کہ چین نے کبھی بھی سمندر پار نوآبادیاتی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی اس نے کبھی افریقی ممالک کی داخلی اقتصادی پالیسیوں میں مداخلت کی ہے۔ انہوں نے چین کی قیادت میں متعلقہ شعبوں میں کثیر الجہتی تعاون کے امکانات کے حوالے سے امید کا اظہار کیا۔





