
یمن میں حوثیوں سے منسلک ایک گروپ نے امریکی کمپنی اینتھروپک کی اے آئی چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ کی مدد سے گائیڈڈ راکٹ اور میزائل تیار کرنے کی کوشش کی۔
اینتھروپک نے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا کہ شمالی یمن میں موجود ایک گروپ کی نشاندہی کی گئی، جو ہتھیاروں کی تیاری کے تین منصوبوں پر کام کر رہا تھا۔
کمپنی کے مطابق ان منصوبوں میں ایک ایسا گائیڈڈ راکٹ شامل تھا جس میں عام موبائل فون جیسا فلائٹ کمپیوٹر اور آخری مرحلے میں ہدف کا تعاقب کرنے والا رہنمائی نظام استعمال ہونا تھا۔
دوسرے منصوبے میں ایک کثیر مرحلہ بیلسٹک میزائل شامل تھا جس کی مطلوبہ رینج 2 ہزار کلومیٹر سے زیادہ رکھی گئی تھی، جبکہ تیسرے منصوبے میں مختلف اقسام کے میزائل تیار کرنے کا منصوبہ تھا، جس میں ہائپر سونک گلائیڈ وہیکل سے لیس میزائل بھی شامل تھا۔
اینتھروپک کے مطابق مذکورہ گروپ نے کلاڈ کی مدد سے ان ہتھیاروں کے رہنمائی، نیوی گیشن اور کنٹرول سافٹ ویئر کی تیاری کی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کام عام طور پر انجینئرز کی ایک پوری ٹیم کی ضرورت رکھتا ہے۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب پے پے در ہے حملوں کیساتھ ساتھ یمن میں اپنی کارروائیاں تیز کردی ہیں اور بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی اہم آبنائے باب المندب کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعہ کو باب المندب کے بحری راستے میں واقع ایک اہم جزیرے پر قبضے کا دعویٰ کیا، جس کے بعد علاقے میں ان کا کنٹرول مزید مضبوط ہوگیا ہے۔
انتھروپک نے کہا کہ اس کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ گروپ کسی عملی طور پر قابل استعمال ہتھیار کی تیاری میں کامیاب ہوا، تاہم اس نے ایک گائیڈڈ راکٹ کا تجرباتی فائر کیا تھا۔
کمپنی کے مطابق تجربہ بظاہر ناکام رہا اور چند گھنٹوں بعد گروپ نے کلاڈ سے رابطہ کرکے راکٹ کے ناکام ہونے کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔
کمپنی نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمی کا پتا چلتے ہی متعلقہ اکاؤنٹس بند کردیے گئے۔ تاہم اس نے اعتراف کیا کہ اس کے حفاظتی نظام نے گروپ کی متعدد درخواستیں روکیں، لیکن تمام درخواستوں کو نہیں روکا جاسکا۔
اینتھروپک نے گروپ کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم شمالی یمن میں سرگرم اور دارالحکومت صنعا سمیت وسیع علاقے پر قابض حوثی فورسز سے اس کا تعلق ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مذکورہ عناصر حوثی تھے یا نہیں۔
اینتھروپک نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ کمپنی نے اے آئی ماڈلز کو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری اور یوکرین کے خلاف مبینہ روسی سائبر جاسوسی مہم میں استعمال کرنے کی کوششیں بھی ناکام بنائیں۔
کمپنی نے چینی حریفوں پر بھی کلاڈ کی صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے ہیکنگ کی کوششوں کا الزام عائد کیا ہے۔
اینتھروپک کے دو محققین نے رواں ہفتے خبردار کیا تھا کہ تیزی سے ترقی کرتی مصنوعی ذہانت مستقبل قریب میں انسانی نسل کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔





