
جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائچی نے "وزیراعظم” کی حیثیت سے دوسری جنگِ عظیم کے جنگی مجرموں کے لیے مخصوص یاسوکونی شرائن کے لیے نذرانہ پیش کیا۔جاپان میں بعض دائیں بازو کے سیاست دانوں کی جانب سے یاسوکونی شرائن پر حاضری دینے یا نذرانے پیش کرنے کے اقدامات پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے "مورایاما بیان کے تسلسل اور ترقی کی انجمن” کے سربراہ تاکاکی فوجیتا نے کہا کہ وہ جاپانی سیاست دانوں کے یاسوکونی شرائن پر حاضری دینے کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، عسکریت پسندی کے گہرے رنگ رکھنے والے اس شرائن پر جاپانی سیاست دانوں کا حاضری دینا انتہائی مضحکہ خیز اور غلط عمل ہے، جس کی واضح طور پر مخالفت کی جانی چاہیے۔





