
امریکی ایوان نمائندگان نے 16 ستمبر کو روس کے خلاف پابندیوں کا بل منظور کیا، جس میں ٹرمپ انتظامیہ کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریداروں پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جس کے ممکنہ اہداف میں چین بھی شامل ہے۔ 17 ستمبر کو چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے اس حوالے سے کہا کہ چین نے ہمیشہ برابری اور باہمی فائدے کی بنیاد پر دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ معمول کا اقتصادی اور تجارتی تعاون برقرار رکھا ہے۔اس طرح کا تعاون نہ تو کسی تیسرے فریق کے خلاف ہے اور نہ ہی کسی تیسرے فریق کی مداخلت یا دباؤ سے متاثر ہونا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ سے لانگ آرم دائرہ اختیار کی مخالفت کرتا ہے، جس کی بین الاقوامی قانون میں بھی کوئی بنیاد نہیں اورنہ ہی اس کی اجازت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دی ہے۔





