
بیجنگ : 2026 عالمی اے آئی کانفرنس اور عالمی اے آئی گورننس اعلیٰ سطحی اجلاس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر چینی صدر شی جن پھنگ نے کلیدی خطاب کیا۔اس تقریب میں شریک نوبیل انعام یافتہ کیمیا دان اور چھنگ ہوا یونیورسٹی کے پروفیسر عمر یاغی نے سی ایم جی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ صدر شی جن پھنگ کے خطاب سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے بقول سب سے زیادہ متاثر کن بات یہ تھی کہ صدر شی نے مصنوعی ذہانت اور اس کی ترقی کو پوری دنیا کی بھلائی کے لیے ایک مشترکہ عالمی کوشش قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کسی ایک ملک کی اکیلی کاوش نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ اوپن سورس اور اوپن شیئرنگ کے تصور سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کیونکہ اس سے دنیا بھر کے محققین کو نمایاں فائدہ پہنچے گا، اور انہیں امید ہے کہ مزید ممالک بھی اس طرزِ عمل کو اپنائیں گے۔عمر یاغی کے مطابق صدر شی جن پھنگ کے خطاب میں مصنوعی ذہانت سے متعلق چین کے ترقیاتی وژن کو واضح انداز میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت چین مختلف شعبوں کی طرح مصنوعی ذہانت میں بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اور یہ سوچنا ضروری ہو گیا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کس سمت میں آگے بڑھے گی اور اس کے معاشرتی ترقی، سائنسی تحقیق اور عالمی سطح پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے بے شمار فوائد کی حامل ہے، تاہم اس کے غلط استعمال کے خطرات بھی موجود ہیں۔ صدر شی کے خطاب میں ایک توازن قائم رکھنے کا مؤثر تصور پیش کیا گیا، تاکہ ایک طرف خطرات پر قابو پایا جا سکے اور دوسری جانب تخلیقی صلاحیتوں اور سائنسی تحقیق کی رفتار بھی متاثر نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کی ترقیاتی کامیابیاں قابلِ ستائش ہیں۔ چین سائنس و ٹیکنالوجی کے تقریباً تمام شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اے آئی کے کئی پہلوؤں میں دنیا میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ کامیابی اتفاقاً نہیں بلکہ مسلسل تحقیقی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے، جس سے سائنس دانوں کو نئی سوچ اور جدید تصورات کو فروغ دینے کے مواقع میسر آتے ہیں۔





