بین الاقوامی

چین تعاون کو فروغ دے کر عالمی اے آئی گورننس کی قیادت کر رہا ہے، ماہرین

بیجنگ : چینی صدر شی جن پھنگ نے 2026 عالمی اے آئی کانفرنس اور عالمی اے آئی گورننس اعلی سطحی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے کلیدی خطاب کیا۔ متعدد ممالک کی اہم شخصیات کا کہنا ہے کہ صدر شی کے خطاب میں وسیع تر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت اور ڈیجیٹل و ذہین ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنے پر زور دیا گیا جو انتہائی دُور رس اہمیت کا حامل ہے۔ یہ خیالات مشترکہ طور پر ایک منصفانہ اور معقول عالمی اے آئی گورننس سسٹم کی تشکیل کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے محقق حارث ملک نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کا یہ مؤقف انتہائی اہم ہے کہ چین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہمیشہ عالمی عوامی مفاد کے لیے خدمات اور وسائل فراہم کرنے کا خواہاں رہا ہے۔ ان کے بقول اس سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف امیر، ترقی یافتہ یا بڑے ممالک کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے فوائد پوری انسانیت اور دنیا کے تمام ممالک، بالخصوص گلوبل ساؤتھ تک پہنچنے چاہئیں۔برازیل کے بین الاقوامی سیاسی معیشت کے ماہر ایلان کاموسا نے کہا کہ اس وقت "گلوبل ساؤتھ” اور نام نہاد "گلوبل نارتھ” کے درمیان شدید عدم توازن پایا جاتا ہے، خصوصاً مصنوعی ذہانت کی ترقی کے میدان میں واضح عدم توازن موجود ہے۔ان کے مطابق گلوبل ساؤتھ کے ممالک اہم معدنیات، توانائی اور ڈیٹا فراہم کرتے ہیں، لیکن قواعد و ضوابط کی تشکیل کے عمل میں انہیں اب بھی بڑی حد تک نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے میدان میں نئی تاریخی ناانصافیوں سے بچنے کی بات دراصل اسی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ مؤقف انتہائی منصفانہ ہے اور عین وقت پر سامنے آیا ہے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker