
اسلام آباد (آئی پی ایس )سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا مسودہ اپوزیشن نے قیادت کو جمع کروا دیا۔
ذرائع کے مطابق مسودے پر 100 سو سے زائد اراکین کے دستخط ہیں، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر پر مسودے میں جانبداری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، متن میں لکھا گیا ہے دونوں رہنماوں نے آج تک پارٹی عہدوں سے استعفی نہیں دیا۔ ایوان کو اپنی پارٹی کی ہدایات کے مطابق چلاتے ہیں۔مسودے کے مطابق سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نیوٹرل رہنے کی بجائے فریق بن جاتے ہیں۔
اسد قیصر اور قاسم سوری وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں، قومی اسمبلی کے قواعد کی مسلسل خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ذرائع نے دعوی کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کے پاس مسودہ موجودہ ہے، اپوزیشن قیادت جب چاہے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا سکتی ہے
سربراہی اجلاس میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر سے متعلق اہم فیصلہ متوقع ہے۔
دوسری طرف سابق وفاقی وزیر دفاع اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ متحدہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ آئینی تبدیلی کاراستہ اختیار کر رہی ہے، مقصد صرف آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہے، اگر سول بیوروکریسی اورپولیس نے آئینی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو آئین کا آرٹیکل 6 واضع ہے، وعدہ ہے اس پر عمل ضرور ہو گا، انشا اللہ۔
ادھر سابق پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی ایاز صادق نے سپیکر اسد قیصر کے رویہ کو متعصبانہ اور جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کا سپیکر اسد قیصر کو اتنا یقین ہے تو قومی اسمبلی کا فوری اجلاس بلائیں، اسد قیصر پر زور دیتا ہوں فی الفور آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے اجلاس بلائیں، ارکان کو آزادانہ فیصلہ کرنے دیں۔ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی اور یہ عالمی سازش ہے کا بیان دے کر سپیکر اسد قیصر متنازعہ ہوگئے ہیں۔





