پاکستان

پاک۔چین کہانیاں |پاکستانی ماہر طب چین میں عالمی طبی تعاون کے فروغ کا ذریعہ بن گئے

حسن، پاکستانی ماہر طب، چین میں عالمی طبی تعاون کے فروغ کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ وہ ہائی نان میں بوآؤ یی لنگ لائف کیئر سنٹر کے بزنس ڈیویلپمنٹ منیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ہائیکو (شِنہوا) حسن 16 سال زائد عرصہ قبل چین کی تاریخ اور روایت کے بارے میں بچپن سے قائم اپنے تجسس کے باعث پاکستان سے چین آئے تھے۔

ایک مختلف ثقافت کو جاننے کا یہ سفر بالآخر چین میں صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ان کے پیشہ ورانہ کیریئر میں بدل گیا۔

ہائی نان میڈیکل یونیورسٹی سے طب کی ڈگری حاصل کرنے اور ایک سابق ڈاکٹر کے طور پر دوا خانے کا تجربہ رکھنے والے حسن آج چین کے جنوبی صوبہ ہائی نان میں واقع بوآؤ لی چھینگ انٹرنیشنل میڈیکل ٹورازم پائلٹ زون میں بوآؤ یی لنگ لائف کیئر سنٹر کے بزنس ڈیویلپمنٹ منیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

وہ اپنی طبی تربیت اور متعدد زبانوں کی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے بیرون ملک کے صحت کے شعبے کے شراکت داروں اور مریضوں کو طبی دیکھ بھال کی سہولیات سے مربوط کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں پوری دنیا کو چین کے صحت کے نظام کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہوں۔

2010 میں وہ پہلی بار بیجنگ آئے اور بعد میں شمال مشرقی صوبہ لیاؤننگ کے ایک ادارے سے چینی زبان سیکھی تاہم ہائی نان کے ایک سفر نے ان کا ارادہ بدل دیا اور پھر وہیں منتقل ہو کر تعلیم کے لئے ہائی نان میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔

طب کے شعبے سے ان کی وابستگی کا مقصد دوسروں کی خدمت کا جذبہ بھی تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص تکلیف یا بیماری میں مبتلا ہو تو اس کا علاج کرنے اور اس کی صحت بہتر ہوتے دیکھ کر آپ کو بھی خوشی ہوتی ہے۔

حسن نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد تقریباً دو سال تک ہائی نان میڈیکل یونیورسٹی سے پہلے الحاق شدہ ہسپتال میں بطور ڈاکٹر کام کیا۔ بعد میں انہوں نے کلینیکل پریکٹس چھوڑ کر بین الاقوامی طبی تعاون کے شعبے کا رخ کیا۔

حسن نے اس پیشے کے انتخاب کے حوالے سے بتایا کہ وہ دیگر ممالک میں مریضوں کے طویل انتظار کے مقابلے میں یہاں تیز رفتار معائنے اور علاج کی سہولیات کے حوالے سے بے حد متاثر ہوئے تھے۔

نیوزی لینڈ کے ایک مریض کے حالیہ واقعہ سے متعلق حسن نے بتایا جو صحت کے معائنے کے لئے یی لنگ آیا تھا۔ اگرچہ اس شخص کو سینے یا پیٹ میں کسی تکلیف کی شکایت نہیں تھی لیکن معائنہ کے دوران معلوم ہوا کہ اس کا پتہ پتھریوں سے بھرا ہوا تھا اور اس میں ایک بہت بڑی پتھری بھی موجود تھی۔

حسن کے مطابق محض تین دنوں کے اندر تمام معائنے اور اس کے بعد علاج بھی مکمل ہو گیا۔ اس تجربے نے بروقت طبی جانچ کی اہمیت اور ہائی نان میں صحت کی سہولیات تک آسان رسائی کے فوائد کو ثابت کر دیا۔

بوآؤ یی لنگ لائف کیئر سنٹر بوآؤ لی چھینگ انٹرنیشنل میڈیکل ٹورازم پائلٹ زون میں واقع ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ سال سے اپنے موجودہ عہدے پر کام کرتے ہوئے وہ 10 بین الاقوامی وفود کی میزبانی کر چکے ہیں جن میں بوآؤ فورم برائے ایشیا کے سلسلے میں 32 ممالک سے آنے والے مندوبین کا ایک گروپ بھی شامل تھا جس نے اس مرکز کا بھی دورہ کیا۔ ان تمام وفود نے چین کی طبی سہولیات اور ٹیکنالوجی کا قریب سے جائزہ لیا۔ حسن نے بتایا کہ بعد ازاں ان میں سے کچھ افراد نے اپنے اہل خانہ کے صحت کے معائنے یا علاج کے لئے ہائی نان لانے کے سلسلے میں ان سے دوبارہ رابطہ بھی کیا۔

ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ کی آزمائشی پالیسیوں کے لئے ایک اہم اور پیش قدم شعبے کے طور پر بوآؤ لی چھینگ انٹرنیشنل میڈیکل ٹورازم پائلٹ زون عالمی سطح پر صحت کی سہولیات کے ایک ممتاز مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران اس زون میں طبی سیاحت کے لئے آنے والوں کی تعداد 7 لاکھ 91 ہزار 300 رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 98.97 فیصد زیادہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے طبی سیاحوں کی تعداد 9 ہزار 611 رہی، جو سالانہ بنیاد پر 4.5 گنا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

کا کہنا ہے کہ اس زون کی پالیسیوں کے فوائد، جدید ترین طبی سہولیات تک رسائی اور اہل مسافروں کے لئے بغیر ویزا آمد کے انتظامات اسے بین الاقوامی مریضوں کے لئے مزید پرکشش بناتے ہیں۔ انہوں نے بنیادی معائنے سے روایتی چینی طب کے ذریعے علاج تک دستیاب سہولیات کے وسیع دائرہ کار کو بھی اس کی مقبولیت کی ایک اہم وجہ قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ 18 دسمبر 2025 کو ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ میں پورے جزیرے پر کسٹمز آپریشنز کے آغاز کے بعد اس جزیرے کی جانب توجہ مزید بڑھی ہے۔ حسن کے مطابق ان کا مشاہدہ ہے کہ بیرون ملک کی متعدد کمپنیاں ہائی نان میں کاروبار شروع کرنے اور مریضوں کے ریفرل کے حوالے سے تعاون کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہیں جبکہ بین الاقوامی پروازوں اور سیاحوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

حسن کے لئے یہ کام ذاتی دلچسپی کا باعث ہے۔ دفتری اوقات کے علاوہ ہائی نان کے دیہات کا دورہ کرنا اور مقامی افراد سے گفتگو کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہائی نان بہت خوبصورت ہے۔ یہاں بہت سے خوبصورت چھوٹے دیہات ہیں جن کی سیر کرنا مجھے پسند ہے۔‘‘

مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ دیگر ممالک کے ساتھ مزید شراکت داریاں قائم کرنے اور ان کے صحت کے نظام کو چین کے ساتھ جوڑنے کے لئے پر امید ہیں۔ وہ خاص طور پر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت چین اور پاکستان کے درمیان طبی سہولیات، خدمات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے میدان میں طبی تعاون مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’مجھے خوشی ہے کہ میرا کیریئر مجھے دنیا کو چین سے جوڑنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ میں مختلف ممالک کے ساتھ صحت کے شعبے میں تعاون کے لئے مزید فعال کردار ادا کرنے کا متمنی ہوں۔‘‘

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker