پاکستانٹاپ سٹوری

سانحہ پمز، ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست مسترد کرنے کا حکم معطل، حکام سے جواب طلب

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز (پمز) اسپتال میں بچوں کی اموات کے واقعے کا مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنے کی درخواست پر وفاقی حکومت سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے وکیل ریاض حنیف راہی کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے سانحہ پمز کی ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست مسترد کرنے کا جسٹس آف پیس کا حکم معطل کرتے ہوئے واقعے کی انکوائری رپورٹ سمیت مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔پمز کی تیسری منزل پر واقع مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں 26 اگست کو آتشزدگی کا المناک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ واقعے کے وقت نرسری میں 15 بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو بحفاظت نکالا جا سکا تھا۔ چند روز بعد وہ بچہ بھی چل بسا۔
واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں کی جانب سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور معاوضے کا مطالبہ کیا گیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ہر متاثرہ خاندان کو 50 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان بھی سامنے آیا تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں دوران سماعت وکیل ریاض حنیف راہی نے مؤقف اختیار کیا کہ پمز سانحے میں 14 بچے ایک ہی وقت میں جل گئے تھے جبکہ ایک بچہ بعد میں دم توڑ گیا تھا، بچوں کی اموات کے باوجود آج تک واقعے کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا، حالانکہ انکوائری رپورٹ میں بھی کوتاہی ثابت ہو چکی ہے۔
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ حکام کو آج ہی عدالتی وقت ختم ہونے سے پہلے ایف آئی آر درج کرکے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ جسٹس آف پیس نے ہائیکورٹ میں درخواستیں زیر التوا ہونے کی بنیاد پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، حالانکہ ان کی جانب سے تھانے میں درخواست دی گئی تھی اور مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ واقعے کے بعد کیا ہوا تھا، کیا اس حوالے سے انکوائری نہیں ہوئی؟ اس پر وکیل نے بتایا کہ انکوائری رپورٹ میں کوتاہی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ وہ تمام رپورٹس اور شواہد طلب کریں گے، اگر کسی قسم کی کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے گا۔
عدالت نے وفاقی حکومت، وزیراعظم آفس، وزارت صحت، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی، آڈیٹر جنرل، چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو نوٹس جاری کر دیے۔
عدالت سی ڈی اے، کیپٹل ایمرجنسی سروسز، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، آئی جی اسلام آباد اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، بعد ازاں کیس کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی۔
خیال رہے 9 ستمبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ بچوں کی اموات کے واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا۔ جس پر کمیٹی نے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
بعد ازاں وکیل ریاض حنیف راہی نے مقدمہ درج کرانے کے لیے جسٹس آف پیس سے رجوع کیا، تاہم درخواست مسترد کر دی گئی۔ 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بھی مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف ریاض حنیف راہی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker