بین الاقوامیتازہ ترین

یورپی یونین کا دوسرے ممالک کیساتھ مل کر اپنی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان

یورپی یونین نے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر اپنی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپی کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین نے بدھ کو یورپی پارلیمنٹ میں اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اپنی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان کیا۔

اپنے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں جنگ جاری ہے جبکہ یورپی ممالک کے خلاف مبینہ روسی ہائبرڈ خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپ کو ہائبرڈ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے کیخلاف تجارتی اقدامات کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ کینیڈا کو امریکا کی 51 ویں ریاست بنانے کی بات بھی کر چکے ہیں، جسے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کونسل کی تشکیل میں یوکرین، برطانیہ، ناروے، کینیڈا اور دیگر شراکت دار بھی شامل ہوں گے۔

یورپی کمیشن کی صدر نے ہائبرڈ حملوں سے نمٹنے کے لیے ردعمل میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے نئے نظام کی بھی تجویز دی۔

ہائبرڈ واقعات میں تخریب کاری، آتش زنی اور ڈرونز کی دراندازی جیسے اقدامات شامل ہیں، جنہیں اکثر روس سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ اقدامات روایتی فوجی حملوں کی حد تک تو نہیں پہنچتے، تاہم یورپی سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان تجاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی حکام براعظم کی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھانے کے خواہاں ہیں۔ اس کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو فوجی اتحاد کے تحت یورپ کی مدد کرنے کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات بھی ہیں۔

تجاویز کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہ آنے کے باعث بعض تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اقدامات نیٹو کے موجودہ ڈھانچوں کی نقل ثابت ہو سکتے ہیں، جس سے ابہام پیدا ہونے کا امکان ہے اور یہ محض مشاورتی فورمز تک محدود رہ سکتے ہیں۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker