
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سون لئے نے متی کونسل کے یمن کے مسئلے پر منعقدہ ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کریں، فوری جنگ بندی کریں، صورتحال کو مزید پیچیدہ نہ بنائیں اور جلد از جلد سفارتی مذاکرات کی جانب واپس آئیں۔
سون لئے نے کہا کہ حالیہ دنوں یمن، آبنائے باب المندب اور اس کے گردونواح کی صورتحال میں ایک بار پھر اہم تبدیلیاں آئی ہیں۔ یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان بڑے پیمانے پر لڑائی جاری ہے، آبنائے باب المندب کے تزویراتی جزائر کے عملی کنٹرول میں تبدیلی آئی ہے، جبکہ سعودی عرب کی ایک اہم تیل پائپ لائن پر ڈرون حملہ بھی کیا گیا ہے۔ تنازعات اور اختلافات مسلسل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ چین کو کشیدگی میں تیزی سے جاری اضافے پر گہری تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ یمن اور سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے اور مسلح تنازعات کے دوران توانائی سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں معمول کی بحری نقل و حمل کے نظام کا تحفظ تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ چین شہری بحری جہازوں پر کسی بھی حملے کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
سون لئے نے مزید کہا کہ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کی سلامتی کے تحفظ، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور خطے میں سلامتی و استحکام کی بحالی کے لیے مسلسل کوششیں کرنے کو تیار ہے۔





