پاکستان

صدر روٹری انٹرنیشنل کا دورہ قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر

اسلام آباد (آئی پی ایس) صدر روٹری انٹرنیشنل جینیفر جونز نے قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر کا دورہ کیا ہے اس دوران انھوں نے پاکستان پولیو پروگرام کی لیڈرشپ سے ملاقات کی ہے۔
صدر روٹری نے دورہ ایسے وقت میں کیا ہے جب پاکستان پولیو پروگرام سات شہروں میں وائرس پھیلنے کے بعد وائرس پر قابو پانے کے لیے مذید بہتر اور نئے طرز کی حکمت عملی ترتیت دے رہا ہے۔
اس موقع پر جینیفر جونز نے قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر میں ایک اجلاس میں کہا کہ ” بحیثیت سربراہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پاکستان دورہ کا مقصد ہے کہ پولیو کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے پاکستان ان دو ممالک میں شامل ہے جہاں پر پولیو وائرس ابھی بھی پایا جاتاہے، میں اس موقع پر خواتین پولیو ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں جو اس پولیو کے خاتمہ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں”
اجلاس میں حکومت پاکستان، بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن ، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت اور سی ڈی سی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
1905 میں روٹری کے قیام کے بعد جینیفرجونز روٹری انٹرنیشنل کی پہلی خاتون سربراہ ہیں۔
اس موقع پر کوارڈینیٹر قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ نے کہا کہ” روٹری کی کارکردگی تمام دنیا کے لئے مشعلِ راہ ہے ہم میں سے بہت سے لوگ ابھی چل پھرنے کی صلاحیت نہ رکھتے اگر روٹری انٹرنیشنل پولیو سے پاک دنیا کے لئے کو ششوں کا آغاز نہ کرتی۔”
جونز نے اس دوران پولیو کنٹرول روم ، 1166 ہیلپ لائن اور ویکسین ویئر ہاؤس کا دورہ بھی کیا ، انھوں نے اس سے قبل کراچی میں خوتین ہیلتھ ورکرز سے ملاقات بھی کی تھی۔
خواتین کی پولیو کے خاتمہ کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے مشرقی بحیرہ روم میں پولیو کے خاتمہ کے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حامد جعفری نے کہا کہ ” خواتین کے فرنٹ لائن کا کردار ادا کرنے سےدنیا بھر میں پولیو پروگرامز مستفید ہوئے ہیں پریذیڈنٹ روٹری کی براہ راست خواتین ہیلتھ ورکرز سے ملاقات کرنے سے خوتین کا حوصلہ مذید بڑھے ہے، پاکستان میں پولیو کا 65 فیصد عملہ خواتین پر مشتمل ہے”
گذشتہ تین دہائیوں سے روٹری دنیابھر میں پولیو کے خاتمہ کی کوششوں میں سرگرم عمل ہے اور اس کا شمارجی پی ای آئی ( Global Polio Eradication Initiative ) کے ابتدائی اراکین میں ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker