بین الاقوامیٹاپ سٹوری

یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آ گیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ

پیرس: بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے، اسکولوں کے مسائل اور ہاؤسنگ بحران کے خلاف یورپ کے مختلف ممالک میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں فرانس، اٹلی اور البانیہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق صرف فرانس میں ملک بھر کے مختلف شہروں میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں، جہاں احتجاجی مظاہرے کے دوران توڑ پھوڑ، آتش زنی اور جھڑپوں کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سیکڑوں اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
فرانس میں جاری ان مظاہروں کا آغاز ستمبر کے وسط میں پیرس کے نواحی علاقے میں اساتذہ کی جانب سے عملے کی کمی کے خلاف کی جانے والی ہڑتال سے ہوا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں پھیل گیا اور اس میں مہنگائی، خوراک اور توانائی کی بلند قیمتوں کے خلاف وسیع تر معاشی تحفظات شامل ہو گئے۔
دوسری جانب البانیہ میں بھی حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جہاں طلباء اور شہریوں نے وزیراعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کیا۔
دارالحکومت ترانا میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، پیٹرول بم اور آتش بازی کا استعمال کیا جبکہ متعدد سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔
البانوی پولیس نے صورت حال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا اور سیکڑوں افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کر کے درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ وزیراعظم ایڈی راما نے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے اپوزیشن پر کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
اسی طرح اٹلی کے شہر میلان میں بھی مہنگائی اور جنگ کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے۔
مظاہرین نے دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پتھراؤ کیا۔
اطالوی پولیس نے پرتشدد کارروائیوں میں ملوث درجنوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا، جن میں متعدد نابالغ افراد بھی شامل ہیں۔
میلان کے میئر نے شہریوں کے بنیادی مطابقت کے حق کو تسلیم کیا لیکن املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس پر حملوں کی شدید مذمت کی۔
یورپ کے دیگر ممالک بشمول پرتگال، سپین اور یونان میں بھی عوامی مشکلات کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
پرتگال کے دارالحکومت لزبن اور پورٹو میں مہنگائی اور ہاؤسنگ بحران کے خلاف ہزاروں افراد نے مارچ کیا جبکہ سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں رہائشی اخراجات اور کرایوں میں بے پناہ اضافے کے خلاف شہریوں نے چوکوں پر خیمہ بستیاں آباد کر رکھی ہیں۔
دریں اثنا یونان میں موٹر آئل ریفنری کے مزدوروں نے کام کے دوران حفاظتی انتظامات بہتر بنانے اور حالیہ حادثات کی شفاف تحقیقات کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پورا خطہ معاشی دباؤ، مہنگائی اور مختلف نوعیت کے سماجی و اقتصادی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker