واشنگٹن (آئی پی ایس ) وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ روشن پاکستان پروگرام 2 سال پہلے شروع ہوا اوراب بھی جاری ہے، پاکستان کے فائدے کیلئے کوئی بھی پروگرام جاری رہنا چاہیے، حکومت کی تبدیلی سے پروگراموں میں تبدیلی نہیں آنی چاہیے ، تحریک عدم اعتماد کے بعد ہم فوری انتخابات میں جاسکتے تھے لیکن صورتحال ایسی نہیں تھی کہ 4 ماہ ملک کوبے یارومددگارچھوڑدیاجاتا۔
تفصیلات کے مطابق واشنگٹن میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے پاکستانی سفارتخانے میں تقریب سے خطاب میں پی ٹی آئی دور کے روشن پاکستان پروگرام کو سراہا۔احسن اقبال نے کہا کہ روشن پاکستان پروگرام 2 سال پہلے شروع ہوا اوراب بھی جاری ہے، پاکستان کے فائدے کیلئے کوئی بھی پروگرام جاری رہنا چاہیے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کی تبدیلی سے پروگراموں میں تبدیلی نہیں آنی چاہیے ، تحریک عدم اعتماد کے بعد ہم فوری انتخابات میں جاسکتے تھے لیکن صورتحال ایسی نہیں تھی کہ 4 ماہ ملک کوبے یارومددگارچھوڑدیاجاتا۔انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس آپشن تھا کہ سیاست بچائیں یا ملک بچائیں، ہمیں معلوم تھا کہ اس فیصلے کی سیاسی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے معاہدے میں واپس آنا انتہائی ضروری تھا ، آئی ایم ایف نے شرط رکھی تھی گزشتہ حکومت کے معاہدوں کوپوراکریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارا معاہدہ طے پاگیا ہے، امید ہے پاکستان جلدفیٹف کی گرے لسٹ سے بھی نکل جائے گا، ملک میں کرپشن سے بڑا مسئلہ سیاسی عدم استحکام ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر ایک گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ، نیشنل چارٹر آف اکانومی ملک کی اہم ترین ضرورت ہے، اگرکوئی یہ کہے کہ انکی سیاست ٹھیک باقیوں کی غلط تو یہ قابل قبول نہیں، سیاست کو نفرت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔





