وزیراعظم کی زیرصدارات اجلاس ہوا جس میں ملکی اقتصادی صورتحال اور عالمی سطح پر اشیاءِ ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا ۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے حالیہ دورہ روس اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر پیش رفت پر تفصیلی گفتگو ہوئی اجلاس میں وفاقی وزراء شوکت فیاض ترین، فواد چوہدری، اسد عمر، مخدوم خسرو بختیار، حماد اظہر اور معاونِ خصوصی ثانیہ نشتر نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت نے کرونا وباء کے دوران پیدا ہونے والے مہنگائی کے عالمی بحران میں عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو عام آدمی تک پہنچنے سے روکنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اجلاس کو ملکی مجموعی اقتصادی صورتحال پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ حالیہ کشیدگی کی صورتحال کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے زائد ہوچکی ہیں جبکہ گیس کی قیمتوں میں بھی 3 سے 5 گُنا اضافہ ہوا ہے اس کے ساتھ ساتھ اشیاء خوردنوش بالخصوص پَام آئل (خوردنی تیل) کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو احساس پروگرام کی مختلف سکیموں اور عوامی ریلیف کیلئے ان میں مزید بہتری کیلئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔





