اہم خبریںپاکستان

حکومت کا فارن فنڈنگ کیس کو شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے چلانے کا مطالبہ

اسلام آباد،وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کو شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے چلایا جائے، کیس کے ملک کی سیاست پر مثبت اثرات ہوسکتے ہیں، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کیلئے بھی اسکروٹنی کمیٹیاں بن چکی ہیں، دونوں کی اسکروٹنی کمیٹیوں سے رپورٹ طلب کی جائے، سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ پر بڑے بڑے لیڈرز نے الزامات لگائے، بینظیر بھٹو نے بھی یہی الزامات لگائے تھے، عمران خان شفاف طریقے سے شوکت خانم کیلئے پیسہ اکٹھا کرتے رہے، الیکشن کمیشن کیساتھ تعاون کیا اور آگے بھی کرنے کو تیار ہیں۔وہ منگل کو وزیر مملکت فرخ حبیب اور عامر کیانی کے ہمراہ الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔

وزیر منصوبہ بندی و پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد عمر نے کہا کہ جب فارن فنڈنگ کیس کی رپورٹ سامنے آئے گی تو قوم دیکھے گی کہ سب سے شفاف فنڈز پی ٹی آئی نے جمع کیے، الیکشن کمیشن جو کر رہا ہے وہ تاریخی قدم ہے، پی ٹی آئی نے سارا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے سامنے رکھ دیا ہے، جب فارن فنڈنگ کیس کی رپورٹ سامنے آئے گی تو قوم دیکھے گی کہ سب سے شفاف فنڈز پی ٹی آئی نے جمع کیے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے جتنی شفافیت کے ساتھ فنڈز جمع کیے اور اس کا ریکارڈ الیکشن کمیشن میں جمع کرایا، کوئی اور پارٹی اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کرا سکتی۔انہوں نے کہا کہ انصاف کا پیمانہ ایک ہونا چاہیے، ہم نے درخواست دائر کی ہے کہ باقی پارٹیوں کے فنڈز کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے، ہم چاہتے ہیں کہ تینوں اسکروٹنی کمیٹیوں کی رپورٹ کو مرتب کیا جائے۔اسد عمر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ساتھ پہلے بھی تعاون کیا اور آئندہ بھی تعاون کرنے کو تیار ہیں، (ن)لیگ اور پیپلز پارٹی کے فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات کے لیے اسکروٹنی کمیٹی بنادی گئی ہے، پارٹیوں پر بڑے الزامات لگتے رہتے ہیں اور بہت بڑے لیڈر الزمات لگاتے رہے ہیں لیکن سب سے شفاف طریقے سے پی ٹی آئی نے فنڈز جمع کیے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پر لوگوں کا بھروسہ ہے، عمران خان نے شوکت خانم، نمل یونیورسٹی اور پی ٹی آئی کے لیے شفاف طریقے سے فنڈز جمع کیے، ان پو لوگوں کو اندھا اعتماد ہے۔اس موقع پر وزیر مملکت فرح حبیب کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ میں نے الیکشن کمیشن میں دوبارہ پیش ہوکر استدعا کی ہے کہ پی پی اور(ن)لیگ کی بھی اسکروٹنی رپورٹ تیار ہے اس کو بھی پیش کیا جائے، تینوں پارٹیوں پر ایک ہی نوعیت کے کیسز ہیں اور سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں یہ اسکروٹنی کمیٹیاں بنائی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے بینک اکاونٹس کی بلاامتیاز جانچ پڑتال کی جانی چاہیے تاکہ پتہ چلے کہ مسلم لیگ (ن)نے 9 اور پیپلز پارٹی نے 11 اکائونٹس خفیہ کیوں رکھے؟ حقائق سب کے سامنے آنے چاہئیں، ہم شفافیت اور ٹرانسپیرنسی پر یقین رکھتے ہیں، اگر الیکشن کمیشن کھلی عدالت میں کیس کی سماعت کرے تو ہم تیار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker