بین الاقوامیٹاپ سٹوریٹیکنالوجی

مشہور خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ

امریکی خلائی ادارے ناسا کی مشہور خلائی دوربین ’نیل گیہرلز سوئفٹ آبزرویٹری‘ کا تقریباً 22 سالہ مشن اختتام پذیر ہوگیا۔
بدھ کی صبح یہ خلائی جہاز زمین کی فضا میں داخل ہوگیا، جہاں شدید درجہ حرارت کے باعث اس کا بیشتر حصہ جل کر تباہ ہونے کا امکان ہے۔ تاہم بعض ٹکڑوں کے زمین تک پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔
امریکی خلائی فورس کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 3 ہزار 200 پاؤنڈ وزنی خلائی دوربین امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 39 منٹ پر انڈونیشیا کے اوپر زمین کی فضا میں داخل ہوئی۔ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دوربین کا کوئی ملبہ زمین پر گرا یا نہیں۔
ناسا نے اس سے قبل اندازہ لگایا تھا کہ اس خلائی جہاز کے زمین پر گرنے سے کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کا امکان تقریباً 2 ہزار 100 میں سے ایک ہے۔
سوئفٹ آبزرویٹری کو 20 نومبر 2004 کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کیپ کیناویرل سے ڈیلٹا ٹو راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں، جنہیں گاما رے برسٹس کہا جاتا ہے، کا مشاہدہ اور مطالعہ کرنا تھا۔

یہ دوربین اپنی تیز رفتار حرکت اور فوری طور پر سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت کے باعث بلیک ہولز سے خارج ہونے والی توانائی، کائناتی دھماکوں اور دیگر غیر معمولی فلکیاتی واقعات کا مشاہدہ کرتی رہی۔

ناسا کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں سورج کی سرگرمیوں میں اضافے نے دوربین کے مدار سے نیچے آنے کا عمل تیز کردیا۔ 2024 میں سورج اپنے 11 سالہ شمسی چکر کی بلند ترین سرگرمی کے مرحلے میں پہنچا، جس کے دوران شمسی شعلوں اور کورونا ماس ایجیکشنز کے باعث زمین کی فضا پھیل گئی۔ اس سے دوربین پر فضائی مزاحمت بڑھ گئی اور وہ بتدریج زمین کے قریب آتی چلی گئی۔

ناسا نے دوربین کو بچانے کے لیے رواں سال جولائی میں ایک خصوصی ریسکیو مشن بھی روانہ کیا تھا، اس مقصد کے لیے تیار کردہ ’لنک‘ نامی خلائی جہاز کو سوئفٹ کے ساتھ منسلک ہوکر اسے دوبارہ مستحکم مدار میں پہنچانا تھا، تاہم یہ کوشش ناکام ہوگئی۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker