
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے 18 تاریخ کو شامی عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ شامی حکام کی جانب سے حال ہی میں ایجنسی کو رپورٹ کیے گئے ایک مقام سے کئی ٹن ایٹمی مواد دریافت ہوا ہے۔ شامی عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ ایٹمی مواد شامی حکام کی تحویل میں رہے گا اور اس کی نگرانی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کرے گی۔
دمشق میں منعقدہ اس پریس کانفرنس کے دوران اسعد الشیبانی کا کہنا تھا کہ شامی عبوری حکومت نے 17 جولائی کو باضابطہ طور پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو ایک ایسے مقام پر ایٹمی مواد کی موجودگی کی اطلاع دی تھی جسے پہلے رپورٹ نہیں کیا گیا تھا اور بعد ازاں ایجنسی کو اس کی تصدیق اور معائنے کی دعوت دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایٹمی مواد "کوئی خطرہ پیدا نہیں کرتا”، اور یہ بدستور شامی عبوری حکومت کی تحویل میں رہے گا اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اس کی نگرانی کرے گی ۔
ستمبر 2007 میں مشرقی شام کے صوبے دیر الزور کے ریگستان میں واقع ایک تنصیب پر بمباری کی گئی تھی۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے 2011 میں کہا تھا کہ وہ "ممکنہ طور پر” ایک ایٹمی تنصیب تھی جبکہ سابق شامی حکومت کا مؤقف تھا کہ وہ ایک عام فوجی تنصیب تھی نہ کہ ایٹمی تنصیب۔ مارچ 2018 میں، اسرائیل نے اس فضائی حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے "تعمیر کے آخری مراحل میں موجود ایک ایٹمی تنصیب کو تباہ کیا تھا "۔





