
حسن ابدال () تھانہ صدر حسن ابدال پولیس کے ہاتھوں سابقہ مقدمے میں گرفتار بدنام زمانہ ملزم فرجاد ارشد عرف (فاری) کے خلاف ڈکیتی کا ایک اور سنگین مقدمہ سامنے آنے پر عدالت نے ملزم کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر کے اسے تفتیش اور برآمدگی کے لیے تھانہ باہتر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملزم فرجاد ارشد ولد ارشد محمود عرف فاری پہلے ہی تھانہ صدر حسن ابدال میں درج مقدمہ میں ایک خواجہ سرا کو اسلحے کے زور پر اغوا کرنے، غیر قانونی حراست میں رکھنے اور اس کے بینک اکاؤنٹ اور اے ٹی ایم کے ذریعے لاکھوں روپے نکلوانے سے متعلق تھا، گرفتار ہو کر ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں جوڈیشل ریمانڈ پر بند تھا۔
دورانِ حراست انکشاف ہوا کہ ملزم تھانہ باہتر میں درج ایک اور سنگین مقدمہ میں بھی ملوث ہے۔ ملزم نے دورانِ کسٹڈی اس واردات کا اعتراف کیا تھا، جس پر تھانہ باہتر کے تفتیشی افسر ایس آئی امجد علی خان نے علاقہ مجسٹریٹ حسن ابدال کی عدالت میں "درخواست برائے طلبی ملزم” دائر کر کے اسے جیل سے طلب کرنے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کیا۔
ملزم کو جیل سے تحویل میں لینے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شاہد ضیاء کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے مقدمے کے ریکارڈ سمیت پیش ہو کر عدالت کو بتایا کہ ملزم کو اس مقدمے میں مدعی مقدمہ کے ضمنی بیان کی روشنی میں باقاعدہ نامزد کیا گیا ہے۔ ملزم انتہائی شاطر اور عادی جرائم پیشہ ہے، جس سے واردات کی تفتیش کرنی ہے اور چھینا گیا مسروقہ مال اور اسلحہ برآمد کرنا ابھی باقی ہے، جس کے لیے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
معزز عدالت نے کیس کے ریکارڈ اور پولیس کی تفتیشی پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد تفتیش کی تکمیل کے لیے ملزم فرجاد ارشد کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے تھانہ باہتر پولیس کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ دیے گئے وقت کے اندر تفتیش کو ہر صورت مثبت انداز میں مکمل کریں اور ملزم کو دوبارہ 16 جون 2026 کو عدالت کے سامنے پیش کریں۔ عدالتی احکامات کی کاپی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔





