
ویسے تو آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کے باعث دنیا بھر میں متعدد نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد ملازمتوں سے محروم ہوئے ہیں۔
مگر اب سرکاری ملازمین بھی اس ٹیکنالوجی کے باعث اپنی نوکریوں سے محروم ہونے والے ہیں۔
جی ہاں واقعی ایک ملک کی حکومت نے ہزاروں ملازمتوں کو ختم کرکے اس کی جگہ اے آئی کو دینے کا اعلان کیا ہے۔
نیدرلینڈز کی حکومت نے 2035 تک 25 ہزار سرکاری ملازمتوں کو ختم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے جس سے ساڑھے 3 ارب یورو کی بچت ہوسکے گی۔
مجموعی طور پر 16 فیصد حکومتی ورک فورس کو کم کیا جائے گا۔
ڈچ اسٹیٹ سیکرٹری فار کنگڈم ریلیشنز اینڈ ایفیکٹیو گورنمنٹ ایرک وان ڈیر برگ نے بتایا کہ ملازمتوں میں کٹوتی سے 2027 میں 90 کروڑ یورو کی بچت ہوگی جبکہ اے آئی ٹیکنالوجی سے پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مرکزی حکومت کے لیے اچھا انتخاب کیا ہے جو کہ واقعی کارآمد ہو جبکہ سرکاری ورک فورس مختصر ہوسکے۔
ڈچ حکومت کو توقع ہے کہ ان منصوبوں کے لیے اے آئی کے استعمال سے پیداواری صلاحیت میں 20 فیصد اضافہ ہوسکے گا جبکہ قوانین کو سادہ بنانے سے مجموعی ورک لوڈ میں کمی آسکے گی۔
اس مقصد کے لیے ڈچ حکومت نے ایک سال میں کم از کم 500 قوانین یا اصولوں کو ختم کرنے یا سادہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
مگر حکومت کی جانب سے اخراجات میں کمی کے لیے صرف اے آئی پر ہی انحصار نہیں کیا جا رہا بلکہ مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
مثال کے طور پر 2 ملازمین ایک میز کو شیئر کریں گے، اضافی سرکاری عمارات کو فروخت کر دیا جائے گا اور آئی سسٹمز کو اسٹینڈرڈائز کیا جائے گا۔





