
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران دشمن سے جنگ دوبارہ شروع ہونے کے لیے تیار ہے، چاہے نوبت قیامت خیز جنگ تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔
این بی سی کے پروگرام میٹ دی پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایران کے امن منصوبے کی شرائط دہرائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اثاثے، جو غیر قانونی طور پر منجمد کیے گئے ہیں، انہیں جاری کیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت ہو۔ ہم کچھ ایسی چیزیں چاہتے ہیں جن کا امریکا گزشتہ معاہدوں میں پہلے ہی وعدہ کرچکا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ گزشتہ سال ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل نے مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ ہم سے پوچھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں سفارت کاری کی طرف واپس جانا چاہیے۔ میں اب بھی سفارت کاری کی کوشش کر رہا ہوں، کیونکہ میرا خیال ہے کہ ہمیں امن کے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبہ مسترد کیے جانے کی بات سنی ہے، تاہم ہم اب بھی ثالثوں کے ذریعے باضابطہ جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔





