تجارتتازہ ترین

ایف پی سی سی آئی نے بجٹ 2026-27 کیلئے وزارتِ خزانہ کو تجاویز ارسال کر دیں

تنخواہ دار طبقے پر عائد انکم ٹیکس شرح کو 35فیصد سے کم کر کے 30فیصد کرنے ،نان ٹیکس سلیب کو 6لاکھ سے بڑھا کر 12لاکھ کرنیکی تجویز

عالمی برادری کا پاکستان پر بڑھتا ہوا اعتماد اسٹریٹجک دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت، سفارتی کامیابیوں کو اقتصادی فوائد میں تبدیل کیا جائے ، عاطف اکرام شیخ

اسلام آباد ()فیڈریشن آف پاکستان چیمبر ز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کیلئے وزارتِ خزانہ کو تجاویز ارسال کر دیں۔ ایف پی سی سی آئی کی بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ برآمدات میں اضافے کیلئے گڈز ایکسپورٹرز کیلئے فائنل ٹیکس ریجیم(ایف ٹی آر )کو بحال کیا جائے، بجٹ میں آئی ٹی شعبے پر عائد 25فیصد برآمدی ٹیکس کی شرح کو 2035تک برقرار رکھنے کی سفارش،طویل المدتی پالیسی سے آئی ٹی برآمدات3.8ارب ڈالرسے بڑھ کر 10ارب ڈالر تک جانے کا امکان ہے، ایس ایم ای ٹرن اوور کی حدکو 250ملین سے بڑھا کر 500ملین کرنے ، سی پی آئی کیساتھ منسلک کرنے کی تجویز ،بجٹ میں مینوفیکچررز کیلئے انکم ٹیکس کی شرح کو 29فیصد سے کم کرکے 20فیصد کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سپر ٹیکس سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کا باعث ، بجٹ میں سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے،تنخواہ دار طبقے پر عائد انکم ٹیکس کی شرح میں 5فیصد کمی کا مطالبہ، 35فیصد سے کم کر کے 30فیصد کرنے کی تجویز ،تنخواہ دار طبقے پر9 فیصد سرچارج کو ختم کرنے ،نان ٹیکس سلیب کو 6لاکھ سے بڑھا کر 12لاکھ کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ 2022میں پاکستان کی معیشت کو نمایاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی انتھک محنت کی بدولت آج پاکستان معاشی استحکام کا سفر بخوبی طے کر رہا ہے ،معرکہ حق نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی قوم کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کر سکتی ہے،مشرق وسطی میں کشیدگی اور ایران امریکا تنازع کے حل کیلئے پاکستان قابل فخر کردار ادا کر رہا ہے،عالمی برادری کا پاکستان پر بڑھتا ہوا اعتماد انتھک سفارتی کوششوں ، اسٹریٹجک دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ سفارتی محاذ پر ملنے والی کامیابیوں کو پاکستان کیلئے بھرپور اقتصادی فوائد میں تبدیل کیا جانا چاہئے ،یقین ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27میں پاکستان کے مضبوط سفارتی پروفائل کی عکاسی ہوگی ،حکومت، ایف پی سی سی آئی اور بزنس کمیونٹی مل کر تمام معاشی چیلنجز اور مشکلات کو حل کر سکتی ہے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker