
مظفرآباد : حریت رہنما چیر مین اتحاد اسلامی مقبوضہ کشمیر سید منظور احمد شاہ نے بھارتی سپریم کورٹ کے وحشیانہ فیصلے جسمیں محترمہ اسیہ انداربی کو دو بار جھوٹے کیسوں میں دو بار عمر قید کی سزا سنانا عالمی قوانیں اور انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے ،یاد رہے محبوس رہنما سیدہ اسیہ اندرابی اور انکی دو ساتھی خواتین ناہیدہ نسریں اورفہمیدہ صوفی کو بھی خواتین کی تنظیم چلانے پر بھارتی سپریم کورٹ کی طرفسے عمر قید کی ناجایز سزاء سنای ہے ۔سید منظور احمد شاہ نے کہا کہ تینوں خواتیں کشمیری خواتین کی اواز اور بے گناہ نمایندہ رہنما ہین جنھون نے خواتین کے حقوق اور انکی عزت و وقار کے لیے بھر پور کام کیا ہے کو ایک سیاسی تنظیم چلقنے پر سزاء دینا ھندوتوا کنگارو کورٹ کی عدالتی دھشت گردی ہے ۔سید منظور احمد شاہ نے کہا بھارتی عدالتی نظام نے کبھی بھی کشمیریعن کو انصاف اور ازادی کی سہولیات نہیں دی ہیں بلکہ کشمیری محبوسین کی ہمیشہ حق تلفی کرکے بھارتی ہندوتوا ریاستی ادارون اور حکمومتوں کے لیے سیاسی انتقام کے الے کے طور پر کام کیا ہے ۔
بھارتی عدالتی نظام مین انصاف کی بجایے ھندو انتھا پسند افراد کو ہی جج بناکر مسلمانوں خاصکر کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم کو قانونی تحفظ دیا جاتا ہے ۔سید منظور احمد شاہ نے کہا این ای اے , ایس ای اے ای بی اور ای ڈی کے ادارون مین بیٹھے ہندوتوا افسرون کے بنایے گیے مقدموں مین گرفتار کشمیری رہنماوں چاہے وہ معصوم خواتین ہی کیون نہ ہوں کو کبھی ضمانت اور انصاف نہیں دیا جاتا ۔ان مزکورہ بھارتی اداروں کے افسران کو عدالتی اختیارات دیکر مقدمات کو بگھاڑنے اور غلط فیصلے صادر کرنے والے سپریم کوڑت بھجا ہی اس یے جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج بھی اس عدالتی دھشت گردی کو جاری رکھ کر بھارتی ھندوتوا حکومت کی انتقام گیری کو قانونی لباداہ فراہم کرین۔سید منظور احمد شاہ نے اپنے بھای سید محمد عبدا للہ شاہ , یسیان ملک اسیہ انداربی اور دیگر ہزاروں مقید کشمیری رہنماوں کے ساتھ بھارتی ناجایز عدالتی اور حکومتی دھشت گردی سے جان کے خطرات لاحق ہیں بھارت عدالتی فیصلوں کی اڑ میں ان سب لوگوں کی جان لینا چاہتی ہے۔ایسے غیر انسانی اقدامات اور طویل گرفتاریاں اور قید بلا حق ضمانت حبسِ بیجا میں رکھنا انسایت کے خلاف منظم جرقیم ہیں۔بھارت کی عدالتی اور ریاستی دھشت گردی بھارت کے ٹوٹنے کا جلد باعث بن سکتی ہے۔ بھارت کے ان غیر قانونی گرفتاریون کے اقدامات اور عدالتی دھشت گردانہ فیصلوں کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اور پاکستان کو فورا رد کرنا چاہیے۔





