
نیویارک(آئی پی ایس)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بین الاقوامی ڈونرز سے قرضوں میں ریلیف اور ملک کے سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے خصوصی پروگرام کے لیے فوری اپیل کی ہے۔نیو یارک میں بلومبرگ کے ساتھ ایک انٹرویو میں، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو آب و ہوا کی وجہ سے تباہ کن سیلابوں سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قرضوں میں خاطر خواہ ریلیف کے بغیر اس تباہی کے ساتھ ہماری معیشت کو بحال کرنا ناممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ملک پہلے ہی معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے، سیلاب نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے، لاکھوں ہیکٹر پر کھڑی فصلوں کو تباہ کرنے کے علاوہ ہزاروں مکانات کو تباہ کر دیا ہے تو اب ہمیں ان لاکھوں لوگوں کی بحالی، انہیں محفوظ رہائش، طبی سہولیات فراہم کرنی ہیں، موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر بنانا ہے اور سیلاب سے تباہ ہونے والی زرعی زمینوں کو بحال کرنا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اس سال اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹن گندم بھی درآمد کرنا پڑے گی کیونکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی سیلاب کی وجہ سے زیر آب آگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف صفر اعشاریہ آٹھ فیصد ہے لیکن یہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے دس سب سے زیادہ کمزور ممالک میں شامل ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پوری عالمی برادری نے تباہ کن صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یورپ گیس فراہم کرے کیونکہ سردیوں میں متاثرین کومشکلات زیادہ ہونگی جس کے لئے روسی صدرسے بھی بات ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں آئی ایم ایف کا معاہدہ بہت سخت شرائط کے ساتھ ہوا ہے جو ہمیں بجلی اور پٹرولیم مصنوعات پر ہر ماہ ٹیکس لگانے پر مجبور کرتا ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ اس حوالے سے پیرس کلب اور آئی ایم ایف سے بات ہوئی ہے۔
روس سے تیل کی درآمد سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے انہوں نے صدر ولادی میر پیوٹن سے بات کی ہے لیکن ابھی تک کچھ طے نہیں ہوا۔
بھارت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر بھارت بات کرنا چاہتا ہے تو پاکستان کشمیر کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت کے لیے تیار ہے جو ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم ہمیشہ کے لیے پڑوسی ہیں اور اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے لوگوں کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔





