
پاکستان نے امریکا میں منجمد افغانستان کے 7 ارب ڈالرز سے متعلق امریکی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔
گزشتہ روز امریکی صدر نے افغانستان کے منجمد 7 ارب ڈالرز کے اثاثوں سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔امریکا نے آدھی رقم نائن الیون متاثرین کیلئے مختص کی اور آدھی رقم سے افغان ٹرسٹ فنڈ بنانیکا فیصلہ کیا۔امریکا کے اس فیصلے پر پاکستان نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یہ منجمد اثاثے افغان ملکیت تھے اور ہیں، اس رقم کے استعمال کا فیصلہ کرنیکا حق صرف افغانوں کو ہے۔ان کا کہنا تھاکہ ہم چاہتے ہیں افغانوں کی مدد کی جائے کیونکہ افغانستان کے لوگوں کوپیسوں کی اشد ضرورت ہے۔خیال رہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو میں افغان سینٹرل بینک کے 7ارب ڈالرز کے اثاثے موجود ہیں جو سابق افغان صدر اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے پر امریکی حکومت نے منجمد کردیے تھے۔طالبان حکومت نے امریکا سے افغان اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا اور اس حوالے سے افغانستان میں احتجاج بھی ہوا تھا۔





