
بیجنگ :نویں ہونگ چھیاؤ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے "اعلیٰ سطح کے کھلے پن سے عوامی فلاح و بہبود میں بہتری، چینی کھانے کی میز پر دنیا کے ذائقے” کے عنوان سے ذیلی فورم شنگھائی میں منعقد ہوا، جس میں سرکاری حکام، بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان، زرعی و غذائی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدے داروں اور ماہرین و اسکالرز سمیت تقریباً 300 افراد نے شرکت کی۔فورم میں کلیدی تقاریر، عملی تجربات اور گول میز مکالمے سمیت مختلف نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں شرکا نے درآمد شدہ زرعی و غذائی مصنوعات کے ترقیاتی رجحانات، تجارتی سہولیات، سپلائی چین کے انضمام اور غذائی نظام کی لچک سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ فورم نے چین اور بیرونِ ملک زرعی و غذائی شعبے سے وابستہ حلقوں کے درمیان رابطے، مکالمے اور تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔چائنا یونیورسٹی آف انٹرنیشنل بزنس اینڈ اکنامکس کے صدر وو وے شنگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھلے پن کا سب سے براہِ راست اظہار عام لوگوں کی کھانے کی میز پر نظر آتا ہے۔ چین پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا زرعی مصنوعات درآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے اور دنیا کے مختلف خطوں کے لذیذ کھانے لاکھوں چینی خاندانوں کی کھانے کی میز تک پہنچ رہے ہیں، جو اعلیٰ سطح کے کھلے پن سے عوامی زندگی میں آنے والی حقیقی تبدیلیوں کی عکاسی ہے۔ درآمدی مصنوعات سے پیدا ہونے والا مسابقتی ماحول مقامی پیداوار کنندگان کو معیار بہتر بنانے اور اپنے برانڈز کو فروغ دینے پر بھی آمادہ کر رہا ہے۔ کھلا پن اور عوامی فلاح و بہبود کھانے کی میز پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔





