
ٹوکیو ٹرائل کے 80 برس مکمل ہونے کے موقع پر ایک تصویری نمائش 26 اکتوبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں شروع ہوئی۔ "انسانیت کے انصاف اور امن کے لیے” کے عنوان سے منعقدہ اس نمائش کا مقصد عالمی برادری کو تاریخ کی سچائی کے تحفظ، دوسری عالمی جنگ میں فتح کے ثمرات کے دفاع اور جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کو برقرار رکھنے کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو چھونگ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹوکیو ٹرائل نے جنگ کے بعد عالمی نظام کو مستحکم کرنے، بین الاقوامی انصاف کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کی سیاسی اور تاریخی اہمیت غیر معمولی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹوکیو ٹرائل کا ہدف جاپانی عسکریت پسندی تھی۔ جاپان کو عسکریت پسندانہ نظریات کا مکمل احتساب کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے امن کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ تاہم افسوس ناک امر یہ ہے کہ جاپان کی دائیں بازو کی قوتیں مختلف بہانوں سے ٹوکیو ٹرائل کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا رہی ہیں اور اس طرح جارحیت کی تاریخ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
فو چھونگ نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ٹوکیو ٹرائل کی روح کو فروغ دیں، نئی شکلوں میں عسکریت پسندی کے ابھرنے کے خطرے سے ہوشیار رہیں اور جنگ کے بعد قائم عالمی نظام، بین الاقوامی امن اور سلامتی کے مشترکہ تحفظ کے لیے کوششیں کریں۔
یہ نمائش اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے زیر اہتمام منعقد کی گئی ہے۔ نمائش دیکھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کہا کہ ٹوکیو ٹرائل جنگ کے بعد کے عالمی انتظامات کا ایک اہم حصہ تھا اور انصاف کے قیام اور امن کے فروغ میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔





