
بیجنگ :چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی وزیراعظم میخائل میشوستین کے ہمراہ چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔بدھ کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیچیدہ اور غیر مستحکم بین الاقوامی صورتحال کے باوجود، دونوں ممالک کے سربراہان کی تزویراتی رہنمائی میں چین اور روس نے مل کر آگے بڑھتے ہوئے اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنایا ہے۔ دونوں ممالک نے متحرک اور مضبوط تعاون کے ذریعے بیرونی ماحول کی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کیا ہے۔ فریقین کے درمیان تعاون کے امکانات وسیع تر اور پیش رفت زیادہ مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت نئے عہد میں چین۔روس جامع تزویراتی شراکت داری ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جس میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے اور تیز رفتار ترقی کے امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین، روس کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر فائدہ مند تعاون کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا اور مؤثر بنانے کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے کو عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کی ترقی اور قومی نشاۃِ ثانیہ میں مدد ملے اور عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں۔روسی وزیراعظم میخائل میشوستین نے کہا کہ رواں سال روس۔چین اچھی ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کی 25ویں سالگرہ ہے۔ نئے عہد میں روس۔چین جامع تزویراتی شراکت داری تاریخی طور پر اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور اس نے ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ایک مثالی نمونہ قائم کیا ہے۔ بین الاقوامی صورتحال میں غیر یقینی عوامل کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس باہمی احترام، مشترکہ مفادات کے حصول اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی بنیاد پر چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے” چین۔روس وزرائے اعظم کے 31ویں باقاعدہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے” پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ اقتصادی و تجارتی امور، خلائی تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔





