
عوامی سفارت کاری کا آغاز دوسروں کی بات سننے سے ہوتا ہے، چینی پروفیسر
بیجنگ()
چین کی رینمن یونیورسٹی میں منعقدہ ایک بین الاقوامی علمی کانفرنس میں چین اور امریکہ کے بارے میں عالمی رائے عامہ کی تشکیل میں میڈیا، مصنوعی ذہانت اور بین الثقافتی مکالمے کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔کانفرنس کا عنوان ’’تبادلہ، روابط اور مشترکہ تخلیق: مصنوعی ذہانت کے دور میں بین الاقوامی ابلاغ کے نئے بیانیوں کی تشکیل‘‘ تھا۔ کانفرنس کے ساتھ چائنا فیڈریشن آف ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن ایسوسی ایشنز کے بیلٹ اینڈ روڈ کلچرل کمیونیکیشن ریسرچ سینٹر کا سالانہ اجلاس 2026ء بھی منعقد ہوا۔ مرکز کے قیام کے بعد یہ اپنی نوعیت کی پہلی بڑی بین الاقوامی علمی کانفرنس تھی۔رینمن یونیورسٹی کے اسکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن کے پروفیسر لارس ولنٹ نے 30 ممالک میں کیے گئے ایک سروے کے نتائج پیش کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکہ کے بارے میں عالمی تصورات مختلف عوامل سے تشکیل پاتے ہیں۔ رپورٹ کی تیاری میں یونیورسٹی کے شعبۂ بین الاقوامی صحافت و ابلاغ کے ڈائریکٹر ژانگ دی سمیت دیگر محققین نے بھی حصہ لیا۔عظیم طاقتوں کے تشخص کی تشکیل: بین الاقوامی خبریں، مصنوعی ذہانت کا استعمال اور چین و امریکہ کے بارے میں عالمی تصورات‘‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک میں چین اور امریکہ کے بارے میں آرا ملک اور موضوع کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ لارس ولنٹ نے میڈیا کے استعمال اور عوامی رائے کے درمیان دوطرفہ تعلق کی بھی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق میڈیا لوگوں کے خیالات پر اثر انداز ہوتا ہے، تاہم کسی ملک کے بارے میں پہلے سے مثبت رائے رکھنے والے افراد بھی اس ملک کے میڈیا کو زیادہ دیکھنے یا پڑھنے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔کانفرنس کے دوران رینمن یونیورسٹی کی پروفیسر چونگ شِن کی تصنیف کردہ کتاب The Path of Friendship: Perspectives from Journalists Along the Belt and Road کے چینی اور انگریزی ایڈیشنز کی رونمائی بھی کی گئی۔چونگ شِن، جو یونیورسٹی کے پبلک ڈپلومیسی ریسرچ سینٹر اور بیلٹ اینڈ روڈ کلچرل کمیونیکیشن ریسرچ سینٹر کی نائب ڈائریکٹر بھی ہیں، نے بتایا کہ کتاب چائنا انٹرنیشنل پریس کمیونیکیشن سینٹر (سی آئی پی سی سی) سے وابستہ صحافیوں کے ساتھ 12 سالہ روابط اور تبادلۂ تجربات کا نتیجہ ہے۔ کتاب میں 17 ممالک کے صحافیوں کے تجربات کی روشنی میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ اس کی تیاری میں 70 سے زائد طلبہ نے حصہ لیا۔انہوں نے بتایا کہ 2014ء میں شروع ہونے والا صحافتی تبادلے کا پروگرام ابتدائی طور پر 10 افریقی صحافیوں تک محدود تھا، تاہم اب اس میں ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ، وسطی و مشرقی یورپ اور دیگر خطوں سے ہر سال 100 سے زائد صحافی شرکت کرتے ہیں۔چینی طلبہ اور غیر ملکی صحافیوں کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے چونگ شِن نے انڈرگریجویٹ، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کے طلبہ کے ساتھ مل کر پروگرام میں شریک صحافیوں کے انٹرویوز کیے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں 2018ء میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی پانچویں سالگرہ اور 2023ء میں دسویں سالگرہ کے موقع پر ویڈیو انٹرویوز کے سلسلے جاری کیے گئے۔تین سالہ مشترکہ کاوشوں کے بعد کتاب جون 2026ء میں شائع ہوئی۔ اس میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے اثرات اور شراکت دار ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات کے بارے میں صحافیوں کے براہِ راست مشاہدات شامل ہیں۔چونگ شِن نے کہا کہ عوامی سفارت کاری کا آغاز دوسروں کی بات سننے سے ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو قریب سے دیکھنے اور اس میں عملی طور پر شریک ہونے والے صحافیوں کے تجربات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ان کے مطابق کانفرنس میں شرکا کے درمیان خیالات کا تبادلہ اور کھلا مکالمہ بین الاقوامی ابلاغ میں باہمی اعتماد، افہام و تفہیم اور مختلف نقطۂ نظر کو سمجھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔





