بین الاقوامی

دنیا میں عدم استحکام میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، چینی وزیر اعظم

دوشنبے :چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی حکومتوں کے سربراہان کی کونسل کے 25ویں اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں، میزبان ملک کے مہمانوں اور متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت تاجکستان کے وزیراعظم قاہر رسول زادہ نے کی۔منگل کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ رواں سال شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ ہے۔ ستمبر میں بشکیک میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں متعدد اہم نتائج حاصل ہوئے، جن سے امن اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے نئی قوت ملی۔ تاہم، دنیا میں عدم استحکام اور غیر یقینی عوامل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر شی جن پھنگ نے سربراہی اجلاس میں نشاندہی کی تھی کہ انسانیت کے مستقبل اور تقدیر سے جڑے اہم موڑ پر شنگھائی تعاون تنظیم کو اپنی تاریخی ذمہ داری نبھاتے ہوئے تاریخ کی سمت متعین کرنے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ لی چھیانگ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر کثیرالجہتی کو مضبوط بنانے اور عالمی طرز حکمرانی میں اصلاحات و بہتری کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کو چاہیے کہ وہ مزید بین الاقوامی شراکت داروں کو متحد کرے، مختلف ممالک کے وسائل اور صلاحیتوں میں فرق کے باوجود اقتصادی و تجارتی تعاون کو فروغ دے، علاقائی اقتصادی انضمام کو آگے بڑھائے، مستحکم اور لچکدار بین الاقوامی نقل و حمل کے راستوں کا نظام تشکیل دے اور عالمی صنعتی و سپلائی چینز کے استحکام اور بلاتعطل روانی کو برقرار رکھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف مطالبات کے باوجود مشترکہ مفادات تلاش کرتے ہوئے عالمی امن و استحکام کا مشترکہ تحفظ کرنا چاہیے، جبکہ ثقافتی تنوع کے درمیان ہم آہنگی اور بقائے باہمی کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔اجلاس کے بعد لی چھیانگ نے شریک رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے اور اسے جاری کیا۔ اجلاس میں تجارت و سرمایہ کاری، صنعت اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی دستاویزات اور شنگھائی تعاون تنظیم کی تعمیر و ترقی سے متعلق قراردادوں کی منظوری بھی دی گئی۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker