
اسلام آباد: صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) عاطف اکرام شیخ نے ملکی برآمدات میں کمی اور عالمی صورتحال کے معاشی اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں برآمدات میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد کمی تشویشناک ہے، جس سے ملکی معیشت اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور عالمی منڈی میں سخت مسابقت کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے منفی اثرات پاکستانی معیشت پر نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں، جبکہ عالمی سپلائی چین متاثر ہونے سے ملکی برآمدی شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث تجارت، ترسیل اور برآمدات کے اخراجات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقت متاثر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات کے فروغ اور برآمدی شعبے کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے صنعت و تجارت کو فوری ریلیف اور سازگار پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ حکومت برآمد کنندگان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور کاروباری لاگت میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے پیداواری اور کاروباری لاگت کم کرنا ناگزیر ہے۔ برآمدات میں مسلسل بہتری کے بغیر معاشی استحکام کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگا، اس لیے برآمدی شعبے کو سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ طویل مدتی اور مستقل پالیسیوں پر توجہ دینا ہوگی۔




