
اسلام آباد(آئی پی ایس )مالدیپ کی پارلیمانی وفد نے پیپلز مجلس کے اسپیکر عبدالرحیم عبداللہ کی قیادت میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی)کے کیپیٹل آفس کا دورہ کیا، جہاں پاکستان اور مالدیپ کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے مختلف پہلووں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے مالدیپ کے پارلیمانی وفد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور بزنس ٹو بزنس روابط کو وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر طارق جدون، کیپیٹل آفس کے چیئرمین کریم عزیز ملک، پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ عمر ریحان، رکن قومی اسمبلی شائستہ خان جدون، پاکستان میں مالدیپ کے ہائی کمشنر اور کاروباری برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات قائم ہیں، جنہیں مزید مضبوط اقتصادی تعاون میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست رابطوں اور بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں کے فروغ پر زور دیا۔ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ فیڈریشن پاکستان اور مالدیپ کے نجی شعبوں کے روابط کو مستحکم بنانے اور مالدیپ کی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مالدیپ کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دی۔عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ سیاحت دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کا ایک اہم شعبہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری وفود کے تبادلوں اور مشترکہ تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے دوطرفہ تجارت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ نجی شعبے کے مضبوط روابط دونوں ممالک میں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر مالدیپ کی پیپلز مجلس کے اسپیکر عبدالرحیم عبداللہ نے کہا کہ مالدیپ پاکستان کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالدیپ کی منڈی میں پاکستانی کاروباری اداروں اور مصنوعات کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کی قابل ذکر گنجائش موجود ہے۔
عبدالرحیم عبداللہ نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ سیاحت، مہمان نوازی اور خدمات کے شعبوں میں تعاون کو بڑھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی تعلقات بھی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔مالدیپ کے اسپیکر نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کی کاروباری برادری کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ اجلاس میں دونوں جانب سے دوطرفہ تعاون کو گہرا کرنے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔شرکا نے موجودہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی فائدے پر مبنی اقتصادی و تجارتی تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش پر بھی اتفاق کیا۔





