
اقوام متحدہ کی فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ میں امریکا کو ایران میں جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے دیا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران میں مِناب پرائمری اسکول اور لامرد اسپورٹس کمپلیکس پر امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
مِناب کے شجر طیبہ ایلی مینٹری اسکول پر امریکا نے ٹوما ہاک میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔ جس سے 120 بچوں سمیت 150 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔ جبکہ لامرد اسپورٹس کمپلیکس پر ہزاروں چھروں سے لیس بموں سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دونوں مقامات پر سویلین آبادی واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا نے جان بوجھ کر اسکول کی عمارت کو حملے کا نشانہ بنایا، حالانکہ اسے اس خطرے کا علم تھا کہ حملے میں شہری عمارت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اس کے باوجود امریکا نے حملہ کیا۔
امریکی فورسز نے ہدف کے بارے میں غلط انٹیلی جنس معلومات پر انحصار کیا، رپورٹ
رپورٹ کے مطابق امریکی فورسز نے ہدف کے بارے میں ایسی انٹیلی جنس معلومات پر انحصار کیا جو درست یا تازہ نہیں تھی اور حملے سے قبل عمارت کے فوجی ہدف ہونے کی مناسب تصدیق نہیں کی گئی۔
جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ فروری میں ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر کسی نے جان بوجھ کر حملہ نہیں کیا۔
رکن ممالک پیر کو جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ کی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد اس کے نتائج پر بحث کریں گے۔ فیکٹ فائنڈنگ مشن نے امریکا اور ایران دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ روکیں اور متاثرین کے لیے مناسب اقدامات کریں۔
امریکا نے اقوام متحدہ کی رپورٹ مسترد کر دی
دوسری جانب امریکی حکام نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے نتائج کو مسترد کیا ہے، پینٹاگون نے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری تحقیقات جاری ہیں ، اس وقت ہمارے پاس اعلان کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے انسانی حقوق کے لیے کچھ بھی نہیں کیا، موجودہ تنازع میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والا واحد فریق ایران ہے۔





