
ایران جنگ کے دوران امریکی فوج کے اسلحہ ذخائر سے متعلق حساس معلومات میڈیا کو لیک ہونے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے امریکی حکام نے تقریباً 50 فوجی افسران اور سویلین اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ کیے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف سے وابستہ اہلکاروں سے اگست میں پوچھ گچھ اور پولی گراف ٹیسٹ کیے گئے۔
تحقیقات کا مرکز طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز سمیت اہم امریکی جنگی ذخائر میں کمی سے متعلق معلومات کا اخراج ہے۔
رپورٹس کے مطابق کسی بھی ٹیسٹ کیے گئے اہلکار کے بارے میں ایسا نتیجہ سامنے نہیں آیا جس سے مبینہ لیک کے ذمہ دار شخص کی واضح شناخت ہوسکے۔ امریکی محکمہ دفاع نے مخصوص اہلکاروں یا تحقیقات کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم حساس اور خفیہ معلومات کے افشا کو قومی سلامتی کے لیے انتہائی سنجیدہ معاملہ قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان لیکس پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ پینٹاگون کی جانب سے خفیہ معلومات کے اخراج کے ذمہ داروں کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔





