بین الاقوامی

چین میں صحرائی رقبے میں مسلسل کمی آئی ہے، انڈر سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

بیجنگ : اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ صحرا زدگی کے سیکرٹریٹ کی ایگزیکٹو سیکرٹری یاسمین فواد نے چین کا دورہ کیا۔ بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے انسدادِ صحرا زدگی کے حوالے سے چین کی نمایاں کامیابیوں پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ "انتظامات کےکسی بھی منصوبے پر عمل درآمد میں پیش رفت طویل مدتی اور مضبوط سیاسی ارادے اور عزم کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی”. ان کے مطابق حالیہ برسوں میں چین میں صحرائی اور ریتلی زمینوں کے رقبے میں مسلسل کمی آئی ہے اور چین دنیا میں زمینی انحطاط کے رجحان کو تبدیل کرنے کی نمایاں ترین مثالوں میں شامل ہو گیا ہے۔یاسمین فواد نے کہا کہ چین نے زمینی انحطاط کو مؤثر طور پر روکنے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہ جنوب-جنوب تعاون کے فریم ورک کے تحت قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے دورۂ چین کا ایک اہم مقصد اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ صحرا زدگی کے شراکت دار کے طور پر چین کے قومی محکمہ جنگلات و سبزہ زار اور کنونشن کے سیکرٹریٹ کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے، تاکہ وسیع تر جنوب-جنوب تعاون کو مشترکہ طور پر فروغ دیا جا سکے۔یاسمین فواد کے مطابق انسدادِ صحرا زدگی میں چین کی کامیابیوں کے اہم عوامل میں سب سے نمایاں سیاسی عزم ہے، جبکہ طویل مدتی منصوبہ بندی بھی چین کی ایک اہم برتری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو چین کے تجربات، ٹیکنالوجی اور نمایاں نتائج سے سیکھنا چاہیے۔ خصوصی انٹرویو میں یاسمین فواد نے کہا کہ چین عالمی سطح پر انسدادِ صحرا زدگی کی کوششوں میں ایک فعال اور اہم رہنما ہے۔ انسدادِ صحرا زدگی کی طویل جدوجہد میں سبز ترقی کے حوالے سے چین کا تجربہ عالمی برادری کے لیے نہایت اہم ہے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker