
اسلام آباد (آئی پی ایس) صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے نسلہ ٹاور اور مونال سے متعلق سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کو واپس لینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ سرمایہ کاروں، کاروباری برادری اور ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کا یہ فیصلہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری کے تحفظ اور قانونی یقین دہانی کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ ہے۔ ماضی میں ایسے فیصلوں سے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا ہوئی، جس کے باعث ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہوئی۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ کاروباری برادری ہمیشہ قانون کی حکمرانی، شفافیت اور ضابطوں کی پابندی کی حامی رہی ہے، تاہم ایسے معاملات میں متوازن اور حقیقت پسندانہ فیصلے ضروری ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے اور کاروباری ماحول مزید بہتر ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور معاشی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے فیصلے سرمایہ کار دوست ماحول پیدا کرنے، نجی شعبے کے اعتماد میں اضافے اور معیشت کی بحالی میں معاون ثابت ہوں گے۔صدر ایف پی سی سی آئی نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی تمام ادارے ایسے فیصلے کریں گے جو آئین و قانون کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ معاشی مفادات، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کو بھی مدنظر رکھیں گے۔





