بین الاقوامی

طبی اجارہ داری کے خلاف چین کی قوت دنیا کے لیے امید بن گئی

بیجنگ :عالمی دوا سازی کی صنعت میں حالیہ عرصے کے دوران ایک دلچسپ صورتحال سامنے آئی ہے۔ فائزر، مرک اینڈ کمپنی اور دیگر مغربی دوا ساز کمپنیوں نے بارہا اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ چین میں جدید ادویات کی تحقیق و ترقی کی رفتار غیر معمولی حد تک تیز ہو چکی ہے، جو نہ صرف صنعت کے روایتی ڈھانچے کو تبدیل کر رہی ہے بلکہ عالمی ادویات کی منڈی پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ یورپ اور امریکہ کی متعدد صنعتی تنظیموں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری بینکوں کی رپورٹس میں بھی اس خدشے کا واضح اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم، شنگھائی کی ژانگ جیانگ فارماسیوٹیکل ویلی کا جائزہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ چین کی حیاتیاتی ادویات کی صنعت کا تیزی سے ابھرنا منڈی میں بے ترتیبی پیدا کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ مغرب کی طویل عرصے سے قائم تکنیکی اور قیمتوں کی اجارہ داری کو ختم کرتے ہوئے دنیا بھر کے مریضوں کو مؤثر اور نسبتاً کم لاگت علاج فراہم کرنے کی ایک اہم کاوش ہے۔چین کی نیشنل میڈیکل پروڈکٹس ایڈمنسٹریشن کے سرکاری اعداد و شمار اس شعبے میں ہونے والی غیر معمولی پیش رفت کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔ 2025 میں چین نے مقامی طور پر تیار کی گئی "کلاس ون” کی ستائیس نئی اینٹی کینسر اصل ادویات کی منظوری دی۔ اسی سال کے اختتام تک دنیا بھر میں زیرِ تحقیق جدید ادویات کے منصوبوں میں چین کا حصہ 33.7 فیصد تک پہنچ گیا، اور اس نے پہلی مرتبہ امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ "بریک تھرو تھراپی” اور ترجیحی جائزے جیسے نظام کی بدولت مقامی اینٹی کینسر ادویات کے جائزے کا اوسط دورانیہ یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں چالیس فیصد کم ہو گیا ہے۔ اسی نوعیت کی ادویات کی تحقیق پر چین میں آنے والی لاگت مغربی ممالک کے مقابلے میں صرف بیس سے پچاس فیصد ہے، جبکہ کلینیکل آزمائشوں میں مریضوں کی شمولیت کا دورانیہ بھی نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ سستی اور مؤثر نئی ادویات کی مسلسل آمد نے کثیر القومی کمپنیوں کی مہنگی پیٹنٹ شدہ ادویات کے منافع کو محدود کرنا شروع کر دیا ہے، یوں طویل عرصے سے پیٹنٹ کے تحفظ کے ذریعے قائم اجارہ داری بتدریج ختم ہو رہی ہے۔شنگھائی کی ژانگ جیانگ فارماسیوٹیکل ویلی، جسے چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں کلیدی صنعت کے طور پر شامل کیا گیا ہے، آج دنیا کا منفرد "ایک کلومیٹر انوویشن سرکل” قائم کر چکی ہے۔ یہاں جدید سائنسی تنصیبات، تھری اے درجے کے اسپتال، دوا ساز کمپنیاں، سرمایہ اور اعلیٰ انسانی صلاحیتیں ایک مربوط نظام کے تحت کام کر رہی ہیں، جس نے حیاتیاتی ادویات کی صنعت کے لیے ایک مکمل ماحولیاتی نظام تشکیل دیا ہے۔ یہی ماڈل چین کی کامیابی کا بنیادی راز سمجھا جاتا ہے۔ اسی مضبوط صنعتی ماحول کی بدولت متعدد جدید شعبوں میں عالمی سطح کی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ مصنوعی ذہانت نے نئی ادویات کی تیاری کا وہ عمل، جو پہلے کئی برسوں پر محیط ہوتا تھا، کم کر کے بارہ سے اٹھارہ ماہ تک محدود کر دیا ہے۔ مقامی سرجیکل روبوٹس کے آرڈرز نے غیر ملکی برانڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، انہیں یورپی یونین سے ریموٹ سرجری کی عالمی منظوری بھی حاصل ہو چکی ہے اور یہ پچاس سے زائد ممالک اور خطوں کو برآمد کیے جا رہے ہیں۔ اس پارک سے مسلسل "تھری ایف” نوعیت کی کامیابیاں سامنے آ رہی ہیں، جن میں دنیا میں پہلی بار ایجاد، چین میں پہلی بار متعارف کرائی جانے والی مصنوعات اور انسانوں پر پہلی مرتبہ کیے جانے والے کلینیکل تجربات شامل ہیں۔ 2025 میں شنگھائی کی حیاتیاتی ادویات کی صنعت کا حجم دس کھرب یوآن سے تجاوز کر گیا، جبکہ جدید ادویات اور طبی آلات کی مسلسل عالمی سطح پر پہلی بار رونمائی بھی جاری ہے۔مغربی دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے "منڈی میں خلل” کی شکایت درحقیقت ان کی اجارہ دارانہ آمدنی میں کمی پر تشویش کا اظہار ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے کثیر القومی دوا ساز کمپنیاں خصوصی پیٹنٹس اور طویل تحقیقی رکاوٹوں کے ذریعے کینسر اور دائمی بیماریوں کی ادویات انتہائی مہنگے داموں فروخت کرتی رہی ہیں، جس کے باعث کم آمدنی والے ممالک کے لاکھوں مریض مؤثر علاج سے محروم رہے۔ اس کے برعکس، چین کا جدید تحقیقی نظام رفتار، ٹیکنالوجی اور کم لاگت کا مؤثر امتزاج پیش کرتا ہے۔ چینی اصل ادویات جب مختلف ممالک کے ہیلتھ انشورنس پروگراموں میں شامل ہوئیں تو مریضوں کے علاج کے اخراجات میں نمایاں کمی آئی، جس سے عام لوگوں کے لیے جدید علاج تک رسائی آسان ہو گئی۔ مارگن اسٹینلے کی ایک صنعتی رپورٹ بھی تسلیم کرتی ہے کہ چین کی طبی جدت کسی بھی بین الاقوامی معیار کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔ چین میں تیار ہونے والی نئی ادویات مختلف ممالک کے ریگولیٹری اداروں کی سخت جانچ سے گزر کر منظور ہوئی ہیں، جبکہ متعدد غیر ملکی دوا ساز کمپنیاں بھی چینی تحقیقی منصوبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون کر رہی ہیں تاکہ اس جدت کے ثمرات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔طبی تحقیق اور جدت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، جبکہ انسانی جان بچانا اس صنعت کا بنیادی مقصد ہے۔ آج چین کی حیاتیاتی ادویات کی جدت اس غیر متوازن عالمی نظام کو تبدیل کر رہی ہے، جہاں چند بڑی بین الاقوامی کمپنیاں برسوں سے تکنیکی برتری کے ذریعے غیر معمولی منافع حاصل کرتی رہی ہیں۔ چین منافع پر مبنی روایتی صنعتی سوچ سے آگے بڑھتے ہوئے ایسا عالمی طبی نظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی اور عوامی فلاح دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہو۔ ژانگ جیانگ فارماسیوٹیکل ویلی کی مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ صحت مند مسابقت اجارہ داری کا خاتمہ کر سکتی ہے، جبکہ ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی عالمی طبی تفاوت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ چین کی جانب سے اصل نئی ادویات کی تحقیق میں مسلسل تیزی لانے کا مقصد صرف عالمی منڈی میں اپنا حصہ بڑھانا نہیں، بلکہ دنیا بھر کے مریضوں کو سستا، مؤثر اور معیاری علاج فراہم کرنا اور عالمی صحتِ عامہ کے فروغ میں نئی قوت شامل کرنا ہے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker