
بیجنگ :منگولیا کے صدر اوخنا خورلسوخ نے دارالحکومت اولان باتور میں سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی۔ اوخنا خورلسوخ نے کہا کہ انہیں چینی صدر شی جن پھنگ کے ساتھ گہری دوستی اور باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات قائم کرنے کا اعزاز حاصل ہے اور دونوں رہنما مسلسل قریبی رابطے میں رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تعلقات مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منگولیا اور چین کے تعلقات خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات کی ایک بہترین مثال بن چکے ہیں۔
چین منگولیا کا ہمیشہ کا اچھا ہمسایہ ہے اور چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا منگولیا کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے۔منگولیا چین کے مؤقف اور خدشات کا احترام کرتا ہے، ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ تائیوان چین کی سرزمین کا اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منگولیا کسی بھی شکل میں "تائیوان کی علیحدگی” کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتا، جبکہ ہانگ کانگ، شی زانگ اور سنکیانگ سے متعلق امور کو چین کا داخلی معاملہ سمجھتا ہے۔منگولیا کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات کی خاطر ایسا کوئی اقدام نہیں کرے گا جو چین کے مفادات کو نقصان پہنچائے۔ انہوں نے شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ اہم عالمی انیشی ایٹوز کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی اور علاقائی امور میں چین کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ وانگ ای نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان کی اسٹریٹجک رہنمائی میں چین اور منگولیا کے تعلقات مجموعی طور پر مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ چین اس بات کا خواہاں ہے کہ فریقین دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کو عملی پالیسیوں اور اقدامات میں تبدیل کریں، اسٹریٹجک اعتماد کو مضبوط بنائیں، عملی تعاون کو وسعت دیں، دوستی کی بنیاد کو مزید مستحکم کریں اور مشترکہ ترقی و خوشحالی کے حصول کے لیے مل کر کام کریں۔وانگ ای نے کہا کہ چین اس بات کو سراہتا ہے کہ منگولیا نے چین کے ساتھ تعلقات کی ترقی کو اپنی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح قرار دیا ہے، جو منگولیا اور اس کے عوام کے بنیادی مفادات سے ہم آہنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ چین دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کے لیے منگولیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے، تاکہ ترقیاتی حکمتِ عملیوں میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے، تعاون کی نئی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا سکے اور رابطہ سازی، توانائی، معدنیات، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں موجود تعاون کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔وانگ ای نے مزید کہا کہ اہم معدنیات، سبز ترقی اور ڈیجیٹل معیشت جیسے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کر کے دوطرفہ تعلقات میں مزید ترقی کے امکانات روشن کیے جا سکتے ہیں۔





