
بیجنگ :چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں اقوام متحدہ کے تحفظ، اس کی فعالیت کی بحالی اور اسے مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے اہم اتفاقِ رائے سامنے آیا ہے۔بدھ کے روز وانگ ای نے کہا کہ تمام شرکاء کا اس بات پر اتفاق تھا کہ اقوام متحدہ کا منشور آج بھی مؤثر ہے اور بین الاقوامی نظام کی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ کو اپنی عملی صلاحیت مزید بہتر بنانا ہوگی اور عالمی برادری کو ثابت قدمی کے ساتھ کثیرالجہتی راستہ اختیار کرتے ہوئے دنیا کو درکار استحکام اور اعتماد فراہم کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ عالمی گورننس میں مختلف ممالک کی خواہشات اور مفادات کی زیادہ متوازن عکاسی ہونی چاہیے تاکہ تمام ممالک مساوی بنیادوں پر شرکت کر سکیں اور مشترکہ فوائد حاصل کر سکیں۔ خاص طور پر گلوبل ساؤتھ کی نمائندگی اور آواز کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ زیادہ منصفانہ اور متوازن عالمی نظم و نسق کا نظام قائم کیا جا سکے۔وانگ ای نے ایران کی صورتحال سے متعلق کہا کہ خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے، جبکہ شہری آبادی اور غیر فوجی اہداف کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بحری راستوں کی سلامتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام سے متعلق ضوابط پر مکمل عمل درآمد ہونا چاہیے۔وانگ ای نے کہا کہ چین پاکستان سمیت دیگر ممالک کی مثبت ثالثی کی کوششوں کو سراہتا اور ان کی حمایت کرتا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ فریق جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثابت قدم رہیں گے۔




