
اسلام آباد (آئی پی ایس)حریت رہنما و پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن مشعال حسین ملک سے اعلی سطحی امریکی وفد نے ملاقات کی اور یاسین ملک کی غیر منصفانہ اور غیر قانونی حراست اور مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور 10سالہ رضیہ سلطانہ سے اظہار یکجہتی کیا۔
وفد میں مائیکل کرو، لوکاس بونٹراگر، ڈاکٹر جوز نائٹ، انور قاسمی، الیاس مسیح اور داد الیاس نے یاسین ملک کے ساتھ ہونے والے غیر منصفانہ اور غیر انسانی سلوک پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران مشعال ملک نے وفد کو بتایا کہ یاسین ملک کو بھارتی غیر قانونی تسلط کے خلاف آواز اٹھانے کے واحد جرم کی وجہ سے ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یاسین بھارت کی غلامی کے طوق کو توڑنے کے لیے کشمیر کی پرامن جدوجہد کی سب سے طاقتور آواز تھے۔حریت رہنما نے مزید کہا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کی شدت کو کم کرنے کے لیے کشمیر کی آزادی کی آواز کو جھوٹے اور من گھڑت مقدمات میں پھنسایا گیا۔چیئرپرسن نے خدشہ ظاہر کیا کہ سفاک حکام انہیں تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں کیونکہ درجنوں حریت رہنما اور نوجوان کشمیری پہلے ہی نظر بندی میں مارے جا چکے ہیں۔
انہوں نے درخواست کی کہ وفد نہ صرف اپنی حکومت پر دباو ڈالے بلکہ یاسین ملک کی غیر قانونی حراست اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا معاملہ عالمی فورمز پر اٹھائے۔پیس اینڈ کلچر ٹیم نے عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کے اداروں پر زور دیا کہ وہ فاشسٹ نریندر مودی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت پر دبا وڈالیں کہ وہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے متفقہ فارمولے اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کریں۔ اس موقع پر وفد نے انہیں یقین دلایا کہ وہ یاسین ملک کی غیر قانونی نظربندی اور کشمیریوں کی نسل کشی کا معاملہ ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کے نظریے سے متاثر ہندوتوا حکومت عالمی امن کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔امریکی وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یاسین ملک کی بحفاظت رہائی اور تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔






