تجارت

گردشی قرضے کتنے ارب روپے ہوگئے؟ہوش اڑا دینے والی خبر

اسلام آباد(آئی پی ایس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس کے دوران گیس سیکٹر کا گردشی قرض 550ارب روپے تک پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں سینیٹر عبدالقادر کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا۔ڈی جی گیس عبدالرشید جوکھیو نے کمیٹی کو بتایا کہ گیس کی قیمت کے تعین میں اوگرا کا کردار محدود جب کہ وفاقی حکومت کا کردار زیادہ ہے۔2020کے بعد ملک میں گیس کی قیمت نہیں بڑھی، گیس کی قیمت نہ بڑھنے سے گیس سیکٹر میں گردشی قرض 550ارب روپے تک پہنچ چکا ،

تمام کمپنیوں کو شامل کرکے گیس کمپنیوں کا گردشی قرض 670 ارب روپے ہے۔عبدالرشید جوکھیو نے بتایا کہ حکومت گیس کے چھوٹے صارفین کو سالانہ 90ارب روپے تک سبسڈی دے رہی ہے، گھریلو سیکٹر کو سردیوں میں مہنگی ایل این جی سستے داموں دینی پڑتی ہے، صرف گزشتہ موسم سرما مں مہنگی ایل این جی سستی دینے پرگردشی قرض 150ارب روپے بڑھا۔ڈی جی گیس نے مزید کہا کہ ملک میں گیس کا دوسرا بڑا صارف فرٹیلائزر سیکٹر ہے، یہ شعبہ 19 فیصد گیس استعمال کرتا ہے، فرٹیلائزر سیکٹر کو 20 سے 22 ارب کی سالانہ سبسڈی بنتی ہے۔

اجلاس کے دوران پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے حکام نے کہا کہ ایل این جی کی اسپاٹ خریداری میں پیپرا رولز بڑا مسئلہ ہیں، پیپرا رولز ایل این جی کی اسپاٹ خریداری سے مطابقت نہیں رکھتے.پی ایل ایل حکام نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایل این جی کا طویل مدتی کنٹریکٹ مشکل ہے، اگر ایل این جی ایڈوانس خریدی گئی تو قیمتیں بڑھنے پر سپلائزر بھاگ جائے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker