
بیجنگ :26 تا 29 اکتوبر 2026 کو، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں مرکزی کمیٹی کا پانچواں کل رکنی اجلاس بیجنگ میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس کا موضوع صرف ایک ہی نکتہ پر مرکوز ہوگا: ” پارٹی کو مسلسل اور مستقل طور پر سخت نظم و ضبط کا پابند بنانے اور اس پر جامع انداز میں عمل درآمد سے متعلق اہم امور کا جائزہ لینا اور اس حوالے سے متعلقہ فیصلے کی دستاویز کی منظوری دینا ۔ حکمران جماعت کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے کے ایک اجلاس میں تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز کرنا کہ ’’اپنی اصلاح اور نگرانی کیسے کی جائے‘‘، بہت سے ممالک کے سیاسی مبصرین کے لیے شاید حیران کن ہو، لیکن کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے لیے یہ ایک بالکل فطری انتخاب ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ میں اکثر دہرائے جانے والے ایک جملے میں اس سوچ کا خلاصہ یوں کیا جاتا ہے:”ملک کو چلانے کے لیے پہلے پارٹی کو درست رکھنا ضروری ہے، اور پارٹی مضبوط ہوگی تو ملک بھی طاقتور ہوگا۔”1945ء میں ایک جمہوریت پسند شخصیت نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے بانی رہنماؤں میں شامل ماؤ زے تنگ سے ایک اہم سوال کیا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ چین کی تاریخ میں یکے بعد دیگرے آنے والے شاہی خاندان "جس طرح تیزی سے عروج پر پہنچتے تھے، اسی طرح زوال کا شکار بھی اچانک ہو جاتے تھے”اور وہ اس تاریخی چکر سے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ کیا کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اس تاریخی چکر سے بچ سکتی ہے؟ ماؤ زے تنگ نے جواب دیا کہ ہاں، اس کا طریقہ یہ ہے کہ "عوام حکومت کی نگرانی کریں”۔ اس سوال کے اٹھائے جانے کے 80 سال سے زیادہ عرصے بعد آج بیجنگ میں اس کا ایک نیا اور دورِ حاضر سے ہم آہنگ جواب سامنے آیا ہے۔ شی جن پھنگ کے پارٹی کی تعمیر کے نظر یے نے پارٹی کی جامع قیادت، خود احتسابی اور اپنی اصلاح کے عمل، نیز عوام کو مرکزیت دینے جیسے نئے اور بنیادی تصورات کے ذریعے مارکسزم کے پارٹی کی تعمیر کے نظر یے کو منظم انداز میں ترقی دی ہے اور سوشلسٹ سیاسی تہذیب کی ترقی کے لیے ایک نیا معیار متعین کیا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں کل رکنی اجلاس میں”پارٹی کو مسلسل اور مستقل طور پر سخت نظم و ضبط کا پابند بنانے اور اس پر جامع انداز میں عمل درآمد” کو مرکزی موضوع قرار دینا ایک ایسے پیغام کی عکاسی کرتا ہے جس کا مفہوم محض الفاظ سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ چین اپنی ترقی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے حکمران جماعت کی اپنی تنظیمی تعمیر اور اصلاح پر ذرہ برابر بھی غفلت نہیں برتتا۔بیسویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں کل رکنی اجلاس کے ایجنڈے کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ "کل رکنی اجلاس”کیا ہوتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کی مدت پانچ سال ہوتی ہے اور عموماً اس عرصے میں سات کل رکنی اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں پارٹی اور ملک کے اہم ترقیاتی امور پر بحث اور فیصلے کیے جاتے ہیں۔ بیسویں مرکزی کمیٹی کے پہلے اجلاس سے لے کر پانچویں اجلاس تک کے سفر پر نظر ڈالیں تو ایک واضح تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ پہلے اجلاس میں قیادت کی تشکیل اور مرکزی اداروں کے انتخاب کا مرحلہ مکمل ہوا۔ دوسرے اجلاس میں اہم تقرریوں اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں تبدیلیوں سے متعلق امور طے کیے گئے، جس سے ادارہ جاتی اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی۔ تیسرے اجلاس میں اصلاحات کو مزید گہرا کرنے پر توجہ دی گئی اور چینی طرز کی جدیدکاری کو آگے بڑھانے کے لیے جامع اصلاحات سے متعلق فیصلے منظور کیے گئے۔ چوتھے اجلاس میں پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026ء تا 2030ء) کے لیے ترقیاتی سمت متعین کی گئی، جبکہ اب ہونے والے پانچویں اجلاس میں پارٹی کی تنظیمی تعمیر اور جامع سخت نظم و ضبط کو مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان پانچوں اجلاسوں کے درمیان ایک مربوط تعلق موجود ہے، جس کے پیچھے ایک سادہ مگر بنیادی اصول کارفرما ہے اور وہ یہ کہ بہترین منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے بھی مضبوط اور مؤثر قیادت ضروری ہے، اور قیادت کی اپنی صلاحیت اور کردار کا مضبوط ہونا ناگزیر ہے۔ یہی چینی کہاوت "لوہا پیٹنے کے لیے خود مضبوط ہونا ضروری ہے” کا مفہوم ہے یعنی کامیابی کے لیے خود کو تیار اور مضبوط ہونا پڑتا ہے ۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں قومی کانگریس کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ "پارٹی نے خود احتسابی اور اپنی اصلاح کے ذریعے نظم و ضبط اور عروج و زوال کے تاریخی چکر سے نکلنے کا دوسرا جواب تلاش کر لیا ہے۔” اس سے پہلے ماؤ زے تنگ نے پہلا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ”عوام حکومت کی نگرانی کریں”۔ نئے دور میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے جامع اور سخت نظم و ضبط کے عملی اقدامات کے ذریعے دوسرا جواب پیش کیا ہے، اور وہ ہے پارٹی کی مسلسل خود احتسابی اور اپنی اصلاح ۔ خود احتسابی اور اپنی اصلاح سے کیا مراد ہے؟ اس کا مطلب پارٹی کو اندرونی طور پر مضبوط بنانا، اس کی کمزوریوں کو دور کرنا، خامیوں اور خرابیوں کا خاتمہ کرنا اور اپنی اصلاح کے لیے خود اپنے خلاف سخت اقدامات کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہے۔ "خود احتسابی اور اپنی اصلاح” کو تاریخی عروج و زوال کے چکر سے نکلنے کی ایک تزویراتی حکمت عملی قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا صرف بیرونی نگرانی پر انحصار نہیں کرتی، بلکہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہتے ہوئے اپنی صفوں کو مسلسل صاف کرنے اور خود کو نئے حالات کے مطابق بہتر بنانے کے لیے بھی سرگرم رہتی ہے۔ یہ نہ صرف مارکسزم کے پارٹی کی تعمیر کے نظر یے میں ایک اہم جدت ہے بلکہ اس عالمی سوال کا جواب بھی ہے کہ ایک سو سال سے زیادہ پرانی جماعت طویل عرصے تک اپنی تازگی اور فعالیت کیسے برقرار رکھ سکتی ہے۔چین میں پارٹی کے نظم و ضبط کو سخت بنانے اور معاشی و سماجی ترقی کے عمل کو ایک دوسرے کے متضاد نہیں سمجھا جاتا، بلکہ انہیں ایک دوسرے کو تقویت دینے والے عوامل قرار دیا جاتا ہے۔ بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی سے کاروبار کے لیے منصفانہ ماحول اور سیاسی نظام میں شفافیت پیدا ہوتی ہے، جبکہ طرزِ عمل کی اصلاح سے کروڑوں عوام کا اعتماد اور حمایت حاصل ہوتی ہے۔ یہی اعتماد اصلاحات پر عمل درآمد کی بنیاد اور ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کی قوت بنتا ہے۔ اس طرح پارٹی پر سخت نظم و ضبط کا نفاذ اور اس کی مسلسل اصلاح ترقی کے لیے ایک مضبوط سہارا فراہم کرتے ہیں۔ مختلف ممالک کے مبصرین کے لیے اس تصور کو سمجھنے کی کلید یہ ہے کہ جہاں مغربی ممالک میں طاقت کے استعمال کو محدود رکھنے کے لیے زیادہ تر بیرونی ادارہ جاتی توازن اور اختیارات کی باہمی نگرانی پر انحصار کیا جاتا ہے، وہیں چین نے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی حکمران جماعت کی مسلسل داخلی تطہیر اور اپنی اصلاح کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کی توجہ زیادہ تر اندرونی اصلاح پر مرکوز ہے اور جو خود احتسابی کے لیے زیادہ شعوری عزم اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔قیادت کی تشکیل سے لے کر پارٹی کی تنظیمی تعمیر تک، اور ترقیاتی منصوبوں کے تعین سے لے کر اپنی ذات کو مضبوط بنانے تک، چین کے سیاسی نظام کی حکمت عملی کا تسلسل واضح ہے۔ اصلاحات اور منصوبہ بندی مستقبل کی سمت متعین کرتی ہیں، مضبوط اور مؤثر حکمران جماعت ان پر عمل درآمد کی ضمانت فراہم کرتی ہے، جبکہ پارٹی کی اپنی تنظیمی تعمیر اور اصلاح اس پورے عمل کی بنیاد ہے۔ جب پانچویں کل رکنی اجلاس میں جامع سخت نظم و ضبط کو مزید گہرائی تک لے جانے پر توجہ دی جائے گی تو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا دنیا کے سامنے محض ایک انتظامی یا ادارہ جاتی طریقہ کار پیش نہیں کرے گی، بلکہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہتے ہوئے خود کو بہتر بنانے اور اپنی اصلاح جاری رکھنے کے سیاسی عزم کا اظہار بھی کرے گی۔ خود احتسابی اور اپنی اصلاح کے ذریعے سماجی تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھانا، چینی قوم کی عظیم نشاۃِ ثانیہ کے حصول کے لیے اجتماعی قوت کو یکجا کرنا اور اس مقصد کے لیے بنیادی سیاسی ضمانت فراہم کرنا، چین کی سیاسی حکمت عملی کے اسی بنیادی تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے اپنے قیام کے دن سے ہی چینی قوم کی ایک صدی پر محیط پستی کے خاتمے اور ایک آزاد و خودمختار عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا تاریخی مشن اپنے ذمے لیا تھا۔ آج سوشلسٹ جدیدکاری پر مبنی ملک کی جامع تعمیر کے نئے سفر میں یہ مشن ایک نئی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کا مقصد چینی عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں ترقی، خوشحالی اور قومی نشاۃِ ثانیہ کے حصول کے لیے آگے بڑھانا ہے۔ بنیادی طور پر پارٹی کے نظم و ضبط کو سخت بنانے کا مقصد چین کے معاملات کو بہتر انداز میں چلانا ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر ایک سو سال سے زیادہ قدیم حکمران جماعت اپنی تنظیمی تعمیر اور اصلاح کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے، اور یہی تاریخ اور عوام کے سامنے اس کا سنجیدہ ترین جواب بھی ہے۔





