بین الاقوامی

جاپانی عوام کا امریکی افواج کے مظالم کے خلاف احتجاج

امریکی فوجی اہلکار پر قتل کے مبینہ مقدمے کے تناظر میں، جاپانی حکومت نے امریکہ کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ واقعے کے مقام اوکیناوا کے عوام نے بھی شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور جاپانی حکومت کی نااہلی کے باعث اس طرح کے جرائم کے واقعات مسلسل رونما ہو رہے ہیں۔ 4 تاریخ کو، جاپانی عوام نے ٹوکیو کے شنجوکو اسٹیشن کے سامنے ایک احتجاجی اجتماع منعقد کیا، جس میں امریکی افواج کے مظالم کے خلاف احتجاج کیا گیا اور اوکیناوا کے علاقے ہینوکو میں نئے امریکی فوجی اڈے کی تعمیر کی مخالفت کی گئی۔
اوکیناوا پریفیکچر پولیس نے 4 تاریخ کو اوکیناوا میں تعینات ایک امریکی فوجی اہلکار کو گرفتار کیا، جس پر الزام ہے کہ اس نے 3 تاریخ کی علی الصبح اوکیناوا کے ایک ہوٹل میں ایک مقامی خاتون کو لوٹنے کے بعد قتل کر دیا۔
اس واقعے کے حوالے سے جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں اسے انتہائی افسوسناک” قرار دیا۔ جاپان کے وزیر خارجہ موتیگی توشیمیتسو اور وزیر دفاع کوئزومی شنجیرو نے بالترتیب امریکی سفیر جارج گلاس اور جاپان میں تعینات امریکی افواج کے کمانڈر اسٹیفن جوسٹ کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا اور امریکی افواج سے نظم و ضبط میں سختی سے بہتری لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا کہ ایسے واقعات کی مکمل روک تھام کی جائے۔
جاپان میں تعینات امریکی فوجیوں سے متعلق مجرمانہ واقعات طویل عرصے سے رونما ہوتے آ رہے ہیں ، جن میں جنسی زیادتی، قتل، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، صرف 2025 میں اوکیناوا پریفیکچر پولیس نے جاپان میں تعینات امریکی فوج اور متعلقہ اہلکاروں کے ملوث ہونے والے 100 سے زائد فوجداری مقدمات کی تفتیش کی۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker