
نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی 25ویں برسی سے قبل یومِ یاد و خدمت اور ہنگامی تیاریوں سے متعلق 2 ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کردیے۔
موجودہ اقدامات کا مقصد حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد، امدادی کارکنوں، زندہ بچ جانے والوں، سٹی ورکرز اور اس سانحے سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیویارک کے میئر کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے بعد نیویارک سٹی 25 سال قبل شہر میں ہونے والے ہولناک دہشتگرد حملے کو یاد کرنے کے لیے اکٹھا ہوگا۔ اس موقع پر ان ہزاروں افراد کو یاد کیا جائے گا جو اس دن اور اس کے بعد کے برسوں میں دنیا سے چلے گئے، جبکہ ان گنت نیویارکرز کی غیر معمولی بہادری کو بھی یاد کیا جائے گا۔
ممدانی کا کہنا تھا کہ 25 سال گزرنے کے باوجود ان خاندانوں کے لیے غم آج بھی تازہ ہے جن کے پیارے کبھی گھر واپس نہیں آئے یا جو حملوں کے بعد برسوں تک زہریلی فضا کے باعث بیمار ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ ان خاندانوں کے لیے اپنے پیاروں کی کمی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں جبکہ تکلیف آج بھی برقرار ہے۔
ممدانی نے کہا کہ ہر نیویارکر ’’کبھی نہ بھولنے‘‘ کے الفاظ اور ان کے مفہوم سے واقف ہے۔ ان کے مطابق اس کا مطلب ان لوگوں کو یاد رکھنا ہے جنہیں کھو دیا گیا، ان کی بے لوثی اور ہمدردی کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا اور ایسا شہر تعمیر کرنا ہے جس پر وہ فخر کرسکیں۔
پہلے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ہر سال 11 ستمبر کو نیویارک سٹی میں باضابطہ طور پر یومِ یاد اور خدمت منایا جائے گا۔
ممدانی نے بتایا کہ 11 ستمبر 2001 کو عام نیویارکرز نے غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجنبی افراد نے زخمی اور گرد سے اٹے نیویارکرز کی مدد کے لیے اپنے کپڑے تک دے دیے، لوگوں نے کھانے پکائے، ضروری سامان خریدا اور اسے جائے حادثہ تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ خون عطیہ کرنے کے لیے لوگوں کی قطاریں کئی بلاکس تک پھیل گئی تھیں، جبکہ لوگوں نے اپنی خدمات، اوزار، وقت اور محنت فراہم کی اور اس کے بدلے کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا۔
ممدانی کے مطابق اگر 11 ستمبر نیویارک شہر کی تاریخ کا تاریک ترین دن تھا تو اس کے بعد روشنی کی کچھ جھلکیاں ان نیویارکرز کی جانب سے سامنے آئیں جو ایک دوسرے کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس دن کو بھی اسی جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔ ان کے مطابق وفاقی اور ریاستی سطح پر اس حوالے سے سرکاری تقریبات ہوتی ہیں، تاہم نیویارک سٹی میں اس طرح کا کوئی باضابطہ دن مقرر نہیں تھا، جسے اب تبدیل کردیا گیا ہے۔
ایگزیکٹو آرڈر کے تحت شہر بھر میں سالانہ یومِ خدمت اور یاد کا انتظام کیا جائے گا، جس میں متاثرین، امدادی کارکنوں، زندہ بچ جانے والوں، سٹی ورکرز اور متاثرہ خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔ سٹی اداروں کو خاموشی اختیار کرنے، یادگاری تقریبات اور دیگر طریقوں سے سانحے کو یاد کرنے کی ترغیب بھی دی جائے گی۔
ہنگامی تیاریوں کی پالیسی میں تبدیلی
ممدانی نے دوسرے ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے، جس کے تحت شہر کی آپریشنل تسلسل اور اداروں کی ہنگامی تیاریوں سے متعلق پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 11 ستمبر ایک ایسا دن تھا جس کی کوئی مثال موجود نہیں تھی اور اس موقع پر سٹی اداروں اور امدادی کارکنوں کو انتہائی مشکل حالات میں فوری طور پر حل تلاش کرنا پڑا۔
ممدانی کے مطابق شہر نے سیکیورٹی اقدامات میں اضافے اور مستقبل کے دہشتگرد خطرات کی روک تھام کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، تاہم نیویارک سٹی مستقبل میں بھی نشانہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشنز کے تسلسل سے متعلق موجودہ پالیسیاں تقریباً 20 سال پرانی ہیں اور انہیں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت تھی۔
نئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ایک نئی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جو مختلف اداروں کے درمیان فیصلہ سازی میں رابطہ کاری کرے گی اور جدید مہارت و نگرانی فراہم کرے گی۔ شہر کے موجودہ تسلسل کے فریم ورک کو بھی جدید بنایا جائے گا تاکہ موجودہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاری بہتر ہوسکے۔
نئی ٹاسک فورس کی سربراہی ڈپٹی میئر برائے آپریشنز کریں گے جبکہ نیویارک سٹی ایمرجنسی مینجمنٹ، آفس آف ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن، ڈپارٹمنٹ آف سٹی وائیڈ ایڈمنسٹریٹو سروسز اور آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ کے حکام بھی اس میں شامل ہوں گے۔
11 ستمبر 2001 کو کیا ہوا تھا؟
25 سال قبل 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں منظم دہشتگرد حملے کیے گئے جن میں دہشتگردوں نے 4 مسافر طیارے اغوا کیے۔دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرائے، جس کے نتیجے میں دونوں عمارتیں منہدم ہوگئیں۔ تیسرا طیارہ واشنگٹن ڈی سی کے قریب امریکی محکمہ دفاع کے ہیڈکوارٹر پینٹاگون سے جا ٹکرایا۔
چوتھا طیارہ ریاست پنسلوانیا کے علاقے شینکس وِل کے قریب ایک کھلے میدان میں گر کر تباہ ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس طیارے میں موجود مسافروں نے اغوا کاروں کے خلاف مزاحمت کی تھی۔
ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اس واقعے کے بعد امریکا میں فضائی سفر کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔9/11 حملوں کے بعد امریکا نے ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی قائم کیا اور USA PATRIOT Act منظور کیا، جس کے ذریعے ملکی سلامتی اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے حکومتی اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔





