بین الاقوامیٹاپ سٹوری

شام اور اسرائیل کے درمیان اردن میں امریکی ثالثی میں مذاکرات، کشیدگی کم کرنے پر غور

امریکی ثالثی میں شام اور اسرائیل کے درمیان اردن میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے ہیں، جن کا مقصد شام میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی سنا کے مطابق شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور شامی انٹیلی جنس حکام نے اردن میں اسرائیلی وفد سے ملاقات کی۔ مذاکرات میں امریکا نے ثالث کا کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت میں حالیہ اسرائیلی حملوں، گرفتاریوں اور ٹارگٹڈ کارروائیوں سمیت شام میں فوجی سرگرمیوں کو روکنے کے ممکنہ طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شامی حکام نے مذاکرات کے دوران ایک بار پھر واضح کیا کہ گولان کی پہاڑیاں مقبوضہ شامی علاقہ ہیں، گولان کی حتمی حیثیت پر بات چیت کرنا اس مرحلے پر قبل از وقت ہے۔
شامی حکام کا کہنا تھا کہ فوری ترجیح اسرائیلی فوجیوں کا 8 دسمبر 2024 سے پہلے والی پوزیشنوں تک انخلا اور 1974 کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہے۔ اسرائیلی افواج کی حالیہ پیش قدمی اور حملوں نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث دمشق اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی ثالثی میں ہونے والی اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال کرنے اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومن گوفمین نے گزشتہ دنوں شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق یہ گفتگو 14 اگست کو ہوئی، جس میں شام میں ترکیے کی فوجی موجودگی سمیت دیگر سکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شام اور اسرائیل کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے، تاہم گولان کی پہاڑیوں، اسرائیلی فوجی انخلا اور شام میں اسرائیلی کارروائیوں جیسے حساس معاملات پر دونوں فریقوں کے مؤقف میں اب بھی واضح اختلافات موجود ہیں۔
گزشتہ دنوں شام کے وزیر خارجہ نے 19 سال کے طویل عرصے بعد پاکستان کا دورہ کیا ، دورے کے دوران اسعد حسن الشیبانی نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔
اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور اقتصادی تعاون مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دورے کو دو طرفہ تزویراتی تعاون کے نئے دور کا آغاز قرار دیا گیا۔
شامی وزیر خارجہ گزشتہ بدھ کو اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے تھے، پاکستان نے شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور مقبوضہ جولان کے معاملے پر شام کے مؤقف کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
شامی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان نے ادلب کے ابو الظہور ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker