
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کا موقع گنوا دیا ہے، اس لیے امریکہ ایران کے خلاف "کسی ملک کے خلاف تاریخ کا سب سے تباہ کن اقتصادی اقدام” اٹھائے گا اور اسے "غیر معمولی اقتصادی جنگ اور تنہائی کی کارروائی” قرار دیا۔اگلے روز امریکی وزیرِ خزانہ بیسنٹ نے تصدیق کی کہ 24 اگست کو ایران کو "غیر معمولی اقتصادی تنہائی” کا شکار بنانے کے لیے مخصوص اقدامات کی تفصیلات باضابطہ طور پر جاری کی جائیں گی۔
امریکہ کی جانب سے اقتصادی جنگ شروع کرنے کے بیان کے بعد ایران نے بھی حالیہ دنوں میں سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے 23 اگست کے بیان میں واضح طور پر کہا کہ امریکہ کی جانب سے اقتصادی جنگ جاری رہنے کی صورت میں ایران "خلیج فارس سے صفر تیل برآمد” کی پالیسی کو امریکی اقتصادی جنگ کے جواب کے طور پر اختیار کرے گا۔ ان کے مطابق اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے علاقے سے تیل کی برآمد بھی نہیں ہوگی۔
اگرچہ ان اقدامات کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں، تاہم بعض تجزیوں میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ صورتحال بالآخر "سب کے لیے نقصان” کا باعث بن سکتی ہے۔





