
ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظامات سے متعلق مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں متعدد معلومات جاری کیں۔
دونوں ممالک کے ابتدائی معاہدے کے مطابق، آبنائے ہرمز میں موجودہ دو بحری راستے بند کر دیے جائیں گے اور ان کی جگہ ایران کے علاقائی پانیوں سے گزرنے والا ایک نیا عارضی بحری راستہ استعمال کیا جائے گا۔
ایران نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں گزشتہ 60 برسوں سے مختلف ایک نیا نظامِ آمدورفت متعارف کرایا جائے گا۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا کہ اس معاہدے کا آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اس کی بحالی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا امریکہ اپنے "خلافِ ضابطہ اقدامات” کی اصلاح کرتا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب امریکہ نے مسلسل یہ اشارہ دیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں صورتحال واضح ہو سکتی ہے۔تاہم ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے 5 اگست کو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو امریکہ کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں، جن میں واشنگٹن نے پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر دوبارہ عمل درآمد کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تمام انتظامات کا فیصلہ صرف ایران اور عمان باہمی مشاورت سے کریں گے اور ایران کسی بھی بیرونی طاقت کی مداخلت ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
تاحال ، آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح سے بدستور بہت کم ہے اور جہاز رانی کا عمل ابھی محدود بحالی کے مرحلے میں ہے۔





