
اسلام آ باد ()
پاکستان کے نالج اینڈ پبلک پالیسی سینٹر کے چیئرمین محمود الحسن خان نے "نیا عالمی انتشار: چین کا سکیورٹی ڈویڈنڈ” کے عنوان سے شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ چین مالیاتی روابط، تکنیکی ترقی اور صنعتی صلاحیت کے منفرد امتزاج کے باعث ایک غیر مستحکم دنیا میں استحکام کی قوت بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کا "عالمی سکیورٹی ڈویڈنڈ” محض نظریاتی تصور نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو جدید بندرگاہوں اور لاجسٹک راہداریوں کی مدد سے دنیا کو قابلِ اعتماد روابط فراہم کر رہا ہے۔ اسی طرح چین کا سرحد پار ادائیگیوں کا نظام تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی مالیاتی نظام ایک واحد ڈھانچے پر انحصار سے نکل کر کثیرالجہتی فریم ورک کی جانب بڑھ رہا ہے۔ چین کی سولر اینڈ ونڈ پاور اور بیٹری ٹیکنالوجی عالمی انرجی شفٹ کے لیےعملی اور بڑھتے ہوئے اہم متبادل فراہم کرتی ہیں۔
مضمون میں کہا گیا کہ چین اپنے قابل اعتماد مالیاتی نظام، پائیدار توانائی کے حل اور مضبوط صنعتی نیٹ ورک کے ذریعے غیر یقینی صورتحال سے دوچار عالمی نظم و نسق کو استحکام فراہم کر رہا ہے، اور ایک زیادہ متوازن اور محفوظ بین الاقوامی اقتصادی ڈھانچے کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "عالمی سکیورٹی ڈویڈنڈ” کے طور پر چین کا کردار دن بہ دن زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔





